کیلیفورنیا کی تاریخ ساز تیراک کیتھرین بریڈ نے 900 میل طویل سفر طے کرلیا

Calender Icon بدھ 21 اکتوبر 2026

نیویارک: خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ الٹرا اینڈورینس تیراک کیتھرین بریڈ نے 900 میل (تقریباً 1448 کلومیٹر) طویل بحری پٹی کو تیر کر عبور کرنے کا دنیا کا پہلا تاریخی کارنامہ انجام دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ حیرت انگیز سفر سمندری طوفانوں، شدید لہروں اور موسمی چیلنجز کے درمیان 111 دنوں میں کامیابی سے مکمل کیا۔

تاریخی سفر کا آغاز اور مرحلہ وار تکمیل
کیتھرین بریڈ نے اس کٹھن مہم کا آغاز یکم جولائی کو ریاست کیلیفورنیا کے شمالی کنارے سے اورگون (Oregon) کی سرحد کے قریب سے کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد سان ڈیاگو تک پہنچنا اور چار ماہ سے بھی کم عرصے میں اس فاصلے کو طے کرنا تھا۔ انہوں نے اس طویل سفر کو ایک ساتھ مسلسل تیرنے کے بجائے مختلف مراحل میں تقسیم کیا، اور ہر تیراکی کے دن اوسطاً 10 میل کا فاصلہ طے کیا۔ اس پورے سفر کے دوران ان کے ساتھ معاون جہازوں اور کشتیوں پر مشتمل ایک ٹیم بھی موجود رہی، جو ان کے سکیورٹی اور لاجسٹکس کے امور سنبھالتی رہی۔ مہم کی تمام تفصیلات اور ویڈیوز کوورلڈ اوپن واٹر سوئمنگ ایسوسی ایشن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی باقاعدگی سے شیئر کیا گیا۔

ایل نینو (El Niño) کے طوفان اور سمندری مشکلات
کیتھرین بریڈ کا یہ سفر اتنی آسانی سے مکمل نہیں ہوا کیونکہ اس سال بحر الکاہل میں غیر معمولی طور پر شدید ایل نینو سیزن فعال تھا، جس کی وجہ سے سمندری حالات انتہائی غیر متوقع اور خطرناک ہو چکے تھے۔ کیتھرین کو مہم کے دوران سات فٹ تک بلند ہونے والی خوفناک لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ بحر الکاہل میں آنے والے اشنکٹبندیی طوفانوں (Tropical Storms) اور سمندری لہروں نے ان کے لیے راستے مزید دشوار بنا دیے۔ کیتھرین کا کہنا تھا کہ شدید روایتی اور مخالف سمت کے بہاؤ کی وجہ سے یہ سفر کسی واشنگ مشین کے اندر پھنس جانے جیسا محسوس ہوتا تھا جہاں انہیں مسلسل پانی کے تیز بہاؤ کے خلاف جدوجہد کرنی پڑی۔

ماحولیاتی آلودگی اور آخری مرحلے کے چیلنجز
مہم کے آخری دنوں میں جب وہ سان ڈیاگو اور میکسیکو کی سرحد کے قریب پہنچیں تو وہاں آلودگی اور گندے پانی کا ایک بڑا چیلنج موجود تھا۔ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر واقع تیجوانا ریور کے آلودہ پانی کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں شدید آلودگی پھیل چکی تھی، جس کے باعث حفاظتی تدابیر کے طور پر انہیں اپنی طبی ٹیم کی ہدایت پر اینٹی بائیوٹکس کا استعمال بھی کرنا پڑا۔ کیتھرین نے اس موقع پر پانی کے اندر موجود پلاسٹک کے فضلے اور آلودگی کو بھی شدت سے محسوس کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سمندری ماحولیات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ اس قیمتی ایکو سسٹم کو بچایا جا سکے۔

کیتھرین کا سابقہ کیریئر اور بین الاقوامی ریکارڈز
کھلے پانی کی تیراکی (Open-water swimming) کی دنیا میں کیتھرین بریڈ کوئی نیا نام نہیں ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کی سابقہ لانگ ڈسٹنس تیراک رہ چکی ہیں اور اس سے قبل بھی کئی بڑے اور خطرناک عالمی ریکارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔ انہوں نے سنہ 2018 میں مشہور انگلش چینل اور 2019 میں شمالی آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان واقع نارتھ چینل کو کامیابی سے عبور کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سنہ 2017 میںلیک تاہو اور سنہ 2022 میں گولڈن گیٹ برج سے ہاف مون بے تک کا 25 میل طویل خطرناک سفر بھی طے کیا تھا۔

پیر کے روز جب کیتھرین بریڈ نے کیلیفورنیا اور میکسیکو سرحد کے عرض بلد کو عبور کرتے ہوئے پانی سے باہر قدم رکھا تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کامیابی پر بے حد فخر محسوس کر رہی ہیں اور اب وہ اپنے گھر والوں میں واپس جانے کے لیے پرجوش ہیں۔ ان کا یہ تاریخی کارنامہ نہ صرف کھیلوں کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا بلکہ یہ دنیا بھر کی خواتین اور نوجوان نسل کے لیے عزم، استقلال اور ماحولیاتی تحفظ کی ایک روشن مثال بن گیا ہے۔