بنگلادیش کی انڈر 18 کرکٹ ٹیم کے باصلاحیت فاسٹ بولر مہدی حسن ہردو(Mehedi Hasan Hridoy)ئے خون کے سرطان میں مبتلا ہونے کے بعد علاج کے لیے ڈھاکا منتقل کیے جانے کے دوران انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 18 سال تھی۔
بنگلادیشی میڈیا، بشمول بنگلادیش سنگباد سنگستھا اور روزنامہ ڈھاکا پوسٹ کے مطابق مہدی حسن ہردوئے چٹاگانگ ڈویژن کی انڈر 18 ٹیم کی نمائندگی کرتے تھے اور بائیں ہاتھ سے تیز گیند بازی کرتے تھے۔ انہیں مقامی سطح پر ابھرتا ہوا کھلاڑی سمجھا جاتا تھا اور ان کا خواب قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا تھا۔
The Bangladesh Cricket Board (BCB) expresses profound sadness at the passing of young cricketer Mehedi Hasan Hridoy, who passed away in Dhaka today after battling leukaemia.
Hridoy represented the Chattogram Division Under-18 team and was regarded as a promising left-arm pace… pic.twitter.com/0rmVtHnorT
— Bangladesh Cricket (@BCBtigers) October 24, 2026
رپورٹس کے مطابق نوجوان کرکٹر ایکیوٹ مائیلائڈ لیوکیمیا نامی خون کے سرطان میں مبتلا تھے۔ طبیعت بگڑنے پر انہیں بہتر علاج کے لیے ایمبولینس کے ذریعے ڈھاکا لے جایا جا رہا تھا، تاہم وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔
مزیدپڑھیں:چینی کارساز کمپنی گیلی بذریعہ بیسٹ وے گروپ پاکستان میں داخل، 3 نئی انرجی گاڑیاں متعارف
بنگلادیش کرکٹ بورڈ اور وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل نے ان کے علاج کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔ رواں سال جولائی میں دونوں اداروں نے ان کے علاج کے لیے 5-5 لاکھ ٹکا دیے تھے، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے مہدی حسن ہردوئے کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔ ان کی وفات سے خاندان، دوستوں اور بنگلادیش کے کرکٹ حلقوں میں سوگ کی فضا ہے۔













اتوار 25 اکتوبر 2026 

