اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کو ایک نويں اور ممکنہ طور پر بڑی سائبر سیکورٹی خلاف ورزی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں صارفین کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فاش ہو گیا ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے نے اپنے ایک اسٹاک ایکسچینج فائلنگ کے ذریعے اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ تقریباً 3,897 صارفین کے خصوصی ریکارڈز اور ذاتی معلومات کا افشا ڈارک ویب پر پایا گیا ہے۔ بینک نے واضح کیا ہے کہ اس حادثے کے باوجود اس کی مرکزی بینکنگ سرگرمیوں، صارفین کے مالیاتی اکاؤنٹس اور کاروباری تسلسل پر کوئی زبردست یا منفی اثر نہیں پڑا ہے، تاہم دفاعی اور سائبر اداروں کی جانب سے اس سنگین واقعے کی کڑی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
بھارت کے بینکنگ سیکٹر اور مرکزی مالیاتی نظام میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی جب اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا خفیہ اور حساس ڈیٹا زیرِ زمین انٹرنیٹ یعنی ڈارک ویب کے مختلف فورمز پر دیکھا گیا۔ اس مبینہ سائبر حملے اور ڈیٹا لیکیج کی اطلاع 16 اکتوبر کو اس وقت سامنے آئی جب بینک کے سیکیورٹی سسٹمز اور سائبر مانیٹرنگ ٹیموں کو مختلف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے فوری تنبیہات موصول ہوئیں۔ انتباہ بھیجنے والے اداروں میں بینک کا اپنا تھریٹ انٹیلی جنس سروس پرووائیڈر، بھارتی ڈیفنس سائبر ایجنسی (DCA) اور انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-In) شامل تھے۔
اطلاعات موصول ہوتے ہی اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے تکنیکی ماہرین نے فوری طور پر ڈارک ویب پر موجود اس ڈیٹا کی چھان بین شروع کر دی۔ ماہرین نے ڈارک ویب پر گردش کرنے والے تقریباً 3 لاکھ 75 ہزار (3.75 لاکھ) سے زائد ڈیٹا ریکارڈز کے ایک بہت بڑے مجموعے کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ اس وسیع ڈیٹا میں سے بینک نے 3,897 ایسے مخصوص اندراجات کی نشاندہی کی جن میں صارفین کی براہِ راست قابلِ شناخت اور ذاتی نوعیت کی معلومات موجود تھیں۔ اس اہم ترین انکشاف کے بعد بینک انتظامیہ نے یہ پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کر دیں کہ یہ ریکارڈز آن لائن کیسے پہنچے، ان کا بنیادی ماخذ کیا تھا اور ڈیٹا بینک کے کس سسٹمز سے لیک ہوا۔
بینک کی ابتدائی تکنیکی اور حفاظتی رپورٹ کے مطابق فاش ہونے والی معلومات محض عام رابطہ تفصیلات تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں صارفین کے بارے میں انتہائی حساس نوعیت کے کوائف شامل ہیں۔ افشا ہونے والے اس ڈیٹا میں صارفین کے مکمل نام، تاریخ پیدائش، جنس، رجسٹرڈ موبائل نمبرز، ای میل ایڈریسز اور ان کے گھروں کے باقاعدہ پتے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تشویشناک بات یہ ہے کہ کچھ خصوصی ریکارڈز کے اندر بینک برانچوں کے حوالہ جات، کسٹمر انفارمیشن فائل (CIF) کی شناختی تفاصیل، لیڈ آئی ڈیز (Lead IDs) اور مختلف قسم کے قرضوں (Loans) اور مالیاتی درخواستوں سے متعلق فائلیں بھی موجود پائی گئی ہیں۔ تاہم بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان فاش شدہ ریکارڈز کی حقیقی نوعیت، ان کی سچائی، کاملیت اور نقصان کے درست اندازے کے لیے مزید تکنیکی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
سائبر حملے کی اطلاعات کے فوراً بعد اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنے سائبر انسیڈنٹ رسپانس اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو مکمل طور پر فعال کر دیا۔ بینک کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے کسی بھی صارف کی رقم، آن لائن ٹرانزیکشنز، اور اہم ترین بینکنگ خدمات متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ بینکنگ ہالٹس یا سسٹم ڈاون ٹائم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور ادارے کا کاروبار حسبِ معمول بحال اور محفوظ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینک کے آئی ٹی اور سیکیورٹی ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس ڈیٹا کے ذریعے صارفین کو فیوچر میں کسی قسم کے فشنگ (Phishing) یا مالیاتی فراڈ کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا نہیں۔
اگر اس سائبر حملے اور ہیکرز کے دعوؤں پر نظر ڈالی جائے تو یہ پورا معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب ایک غیر معروف اور گمنام ہیکنگ گروپ “سیریسیم” (Siriusim) نے ڈارک ویب کے ایک بدنامِ زمانہ فورم “بریچ فورمز” (BreachForums) پر اس حملے کی ذمہ داری کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا۔ اس گروپ کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اسٹیٹ بینک کے تقریباً 3.75 لاکھ سے زیادہ صارفین کا ڈیٹا کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ اگرچہ ہیکرز نے یہ بڑا دعویٰ کیا ہے، لیکن ایس بی آئی نے باضابطہ طور پر ابھی تک کسی مخصوص گروپ یا ہیکر کو اس واقعے کا مکمل ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے اور معاملے کی فرانزک تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے۔
بھارت کے بینکنگ سیکٹر میں ڈیٹا سیکورٹی کے حوالے سے یہ پہلا سنگین واقعہ نہیں ہے۔ حال ہی میں جولائی کے مہینے میں ایک اور بڑے بھارتی بینک “بینک آف بڑودہ” (Bank of Baroda) کا تقریباً 1 ٹیرا بائٹ (1TB) حساس ترین کسٹمر ڈیٹا فاش ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس نے بھارت کے بینکنگ انفراسٹرکچر پر سوالات اٹھا دیے تھے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں پیش آنے والا یہ حالیہ واقعہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ بینکنگ انڈسٹری پر سائبر حملوں اور ڈیٹا کی چوری کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
فی الوقت، اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے حکام پوری صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بینک نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ آئین اور تمام متعلقہ بھارتی ریگولیٹری قوانین کے مطابق تمام ضروری حفاظتی و قانونی اقدامات اٹھائے گا۔ بینک کی جانب سے تمام صارفین کو بھی محتاط رہنے اور کسی بھی نا معلوم ای میل یا پراسرار فون کال کا جواب نہ دینے اور اپنے پاس ورڈز وغیرہ تبدیل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ وہ کسی بھی متوقع نقصان سے بچ سکیں۔













پیر 26 اکتوبر 2026 

