آئی ایم ایف کو پاکستان میں معاشی اصلاحات میں تاخیر پر شدید تحفظات

Calender Icon پیر 26 اکتوبر 2026

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں بعض معاشی اصلاحات میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

ذرائع کے مطابق عالمی ادارہ زرعی آمدن پر ٹیکس،ری ٹیلرزکو نیٹ میں لانے میں سست روی پر ناخوش ہے، ملک میں غیررسمی معیشت کا حجم بہت زیادہ، صرف دکانداروں پر دباو ڈالنا ناکافی قرار دیدیا۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں زرعی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے رجسٹریشن میں ناکام ہوگئے، سال 2025-26 کے دوران زرعی شعبے میں ٹیکس گوشواروں کا ہدف پورا نہ ہو سکا۔

آئی ایم ایف نے زرعی شعبے میں ٹیکس چھوٹ، استثنی برقرار رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، آئی ایم ایف نے کم ازکم 15 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

عالمی ادارے نے صحت، تعلیم سمیت انسانی وسائل کی ترقی پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا مطالبہ کردیا، پاکستان میں ٹیکس اصلاحات میں پیش رفت کو بھی غیر تسلی بخش قرار دیدی۔

ذرائع وزارت خزانہ پاکستان گزشتہ کئی سال سے محدود ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں پھنسا ہوا ہے، مضبوط ریاستی نظام کیلئے ٹیکس بیس میں اضافہ ضروری ہے، آئی ایم ایف، پاکستان میں ٹیکس وصولیوں میں بہتری کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:پالیسی ریٹ میں اضافہ صنعتوں کیلئے دھچکا، سرمایہ کاری متاثر ہوگی، عبدالہادی

آئی ایم ایف کا مختلف زرائع پر ٹیکس کی شرح میں یکسانیت یقینی بنانے پر زور دیا ہے، عالمی ادارے نے زراعت، ریٹیل سیکٹرمیں اصلاحات کی رفتارغیر تسلی بخش قراردیدی۔