کراچی: ملک میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے صارفین پر بوجھ بڑھا دیا جس کے باعث موبائل فون خریدنا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
میڈیا میں شائع مارکیٹ سروے کے مطابق 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والے بنیادی اسمارٹ فون کی قیمت جو چند ماہ پہلے 22 ہزار روپے تھی اب بڑھ کر 40 ہزار روپے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث بہت سے خریداروں کے پاس استعمال شدہ فون یا کِٹ فون خریدنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔
کِٹ فونز سے مراد ایسے فون ہیں جو کسٹم ڈیوٹی سے بچنے کے لیے ریٹیل پیکنگ کے بغیر بڑی تعداد میں درآمد کیے جاتے ہیں اور عموماً ری فربشڈ یعنی مرمت اور بحالی کے بعد دوبارہ فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔
تاہم بہت سے صارفین کا خیال ہے کہ استعمال شدہ یا کِٹ فونز اتنے قابلِ اعتماد نہیں ہوتے جتنا کہ نیا اسمارٹ فون ہوتا ہے۔
موبائل فون فروخت کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے نہ صرف صارفین کی مشکلات بڑھا دی ہیں بلکہ ان کے کاروبار کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
ایک دکاندار نے بتایا کہ ”جب 20 ہزار روپے کا فون مہنگا ہوکر 30 یا 35 ہزار روپے کا ہوجائے تو بہت سے صارفین کی قوتِ خرید جواب دے جاتی ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد ہماری فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔“
ایک اور دکاندار کے مطابق قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور فونز کی محدود دستیابی کے باعث اس وقت مارکیٹ میں غیر یقینی صورتِ حال پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب ڈیلرز اور موبائل فون مینوفیکچررز نے واضح کیا ہے کہ اس اضافے کی وجہ حکومتی ٹیکس نہیں بلکہ دنیا بھر میں میموری چپس یعنی ریم اور روم کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا اے آئی ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی کے باعث میموری چپس کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔اے آئی کمپنیاں یہ چپس انتہائی مہنگے داموں خرید رہی ہیں جس کا براہ راست اثر موبائل فونز کی تیاری پر پڑا ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتیں تقریباً دگنی ہونے سے ان کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ نچلا اور متوسط طبقہ اس مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:احتجاج کیس: علیمہ خان و دیگر کے خلاف چوتھی مرتبہ فیصلہ مؤخر، 26 نومبر کو سنایا جائیگا
پریشان صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بنیادی ضرورت بننے والے اسمارٹ فونز کو عام شہریوں کی پہنچ میں رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔













پیر 26 اکتوبر 2026 

