انسٹاگرام کی یوٹیوب کو ٹکر، 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا تجربہ شروع

Calender Icon منگل 27 اکتوبر 2026

انسٹاگرام(instagram) اب صرف مختصرویڈیوز تک محدود رہنے کے بجائے طویل دورانیے کے مواد کے لیے بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے تحت پلیٹ فارم نے منتخب تخلیق کاروں کے لیے 90 منٹ تک کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کی آزمائش شروع کر دی ہے، جس سے اسے یوٹیوب کے مقابلے میں طویل ویڈیوز کی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انسٹاگرام کے اس نئے فیچر کو ’فیچرز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے پوڈکاسٹرز، مزاحیہ مواد بنانے والوں اور دیگر تخلیق کاروں کو طویل ویڈیوز شیئر کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ آزمائش پیر کے روز امریکا میں چند منتخب تخلیق کاروں کے ساتھ شروع کی گئی، جبکہ اس سے قبل برازیل میں بھی اس کی آزمائش کی جا چکی ہے۔ تاہم، فی الحال یہ محدود تجربہ ہے اور انسٹاگرام نے اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرانے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

اس اقدام کا مقصد انسٹاگرام پر ایسے مواد کو فروغ دینا ہے جسے لوگ طویل دورانیے تک دیکھنا پسند کرتے ہیں، مثلاً پوڈکاسٹ، انٹرویوز اور تفریحی پروگرام۔ اب تک انسٹاگرام کی شناخت زیادہ تر مختصر ویڈیوز، خصوصاً ریلز، کے حوالے سے رہی ہے، لیکن طویل ویڈیوز کے معاملے میں اس پلیٹ فارم کو ایک اہم رکاوٹ کا سامنا ہے۔

انسٹاگرام پر تین منٹ سے زیادہ طویل ریلز کو نئے صارفین کی فیڈ میں عام طور پر نہیں دکھایا جاتا، اس لیے ایسی ویڈیوز بنانے والوں کے لیے زیادہ لوگوں تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی تخلیق کار اپنی مکمل ویڈیوز دیکھنے کے لیے صارفین کو یوٹیوب جیسے دوسرے پلیٹ فارمز پر جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:رئیلٹی شو ‘تماشا’ کی مقبول جوڑی اسرا عائشہ اور زیب خان نے نکاح کر لیا

نئے فیچر کے ذریعے انسٹاگرام اس صورت حال کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ پلیٹ فارم ایک ایسا آپشن بھی آزما رہا ہے جس کے تحت تخلیق کار اپنی مختصر ریلز کو متعلقہ طویل ویڈیوز سے منسلک کر سکیں گے۔ اس طرح ناظرین کسی پوڈکاسٹ یا دوسرے پروگرام کا مختصر کلپ دیکھنے کے بعد اسی سے منسلک مکمل ویڈیو تک پہنچ سکیں گے، اور انہیں انسٹاگرام چھوڑ کر کسی دوسرے پلیٹ فارم پر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Adam Mosseri (@mosseri)

انسٹاگرام میں مصنوعات کی نائب صدر ٹیسا لیونز کے مطابق، اس سہولت کے ذریعے ناظرین اپنی پسند کے پوڈکاسٹ کا مختصر کلپ دیکھنے کے بعد اس پر کلک کرکے مکمل ویڈیو بھی دیکھ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تخلیق کار اپنی ریلز کو مکمل ویڈیوز سے منسلک کر سکیں گے، جس سے ناظرین کے لیے مزید مواد دریافت کرنا آسان ہوگا۔

تاہم، طویل ویڈیوز کے لیے انسٹاگرام نے ابھی تک یوٹیوب جیسا اشتہارات کی آمدنی میں حصہ دینے کا پروگرام متعارف نہیں کرایا۔ یوٹیوب پر اہل تخلیق کار اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں حصہ حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ انسٹاگرام پر اس نئے فیچر کے تحت طویل مدت کے لیے آمدنی کا کوئی باقاعدہ ماڈل ابھی سامنے نہیں آیا۔


انسٹاگرام کے ایک ترجمان کے مطابق، پلیٹ فارم اس وقت بعض کریئیٹرز کو طویل ویڈیوز بنانے کے لیے براہِ راست مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ تاہم، کمپنی کا کہنا ہے کہ فی الحال آمدنی کے مستقل اور طویل مدتی نظام کے بارے میں تفصیلات بتانا قبل از وقت ہوگا۔

انسٹاگرام کی حکمت عملی صرف موبائل فون تک محدود نہیں ہے۔ کمپنی اپنی ٹی وی ایپ کے لیے بھی آگے بڑھ رہی ہے تاکہ صارفین بڑی اسکرین پر تخلیق کاروں کا مواد دیکھ سکیں۔ ’انسٹاگرام فار ٹی وی‘ ابتدا میں ایمیزون فائر ٹی وی ڈیوائسز پر متعارف کرائی گئی تھی، بعد میں اسے سام سنگ اور گوگل ٹی وی تک وسعت دی گئی۔ پیر کے روز یہ ایپ امریکا میں ایپل ٹی وی پر بھی متعارف کرائی گئی۔

کمپنی کی کوشش ہے کہ صارفین ٹی وی پر بھی پوڈکاسٹ اور دیگر طویل ویڈیوز دیکھ سکیں، لیکن اس کے ساتھ انسٹاگرام کی وہ سماجی خصوصیات بھی برقرار رہیں جو اسے روایتی ویڈیو پلیٹ فارمز سے مختلف بناتی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ انسٹاگرام نے طویل ویڈیوز کے شعبے میں قدم رکھنے کی کوشش کی ہو۔ کمپنی نے 2018 میں آئی جی ٹی وی متعارف کرایا تھا، لیکن بعد میں 2022 میں اس کی الگ ایپ بند کر دی گئی۔

موجودہ منصوبہ آئی جی ٹی وی سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں طویل ویڈیوز کو انسٹاگرام کے موجودہ نظام، ریلز اور مواد دریافت کرنے کی سہولت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حکمت عملی سے انسٹاگرام کو پوڈکاسٹرز اور دیگر طویل ویڈیوز بنانے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور یوٹیوب سے مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم، تخلیق کاروں کے لیے اشتہارات سے آمدنی حاصل کرنے کا واضح اور مستقل نظام نہ ہونا اس منصوبے کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ فی الحال یہ بھی واضح نہیں کہ نیا فیچر کب تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔