پی ٹی آئی پارلیمانی گروپ میں شاندانہ گلزار اور ذوالفقار خان کی چیٹ وائرل

Calender Icon منگل 27 اکتوبر 2026

اسلام آباد: پی ٹی آئی پارلیمانی گروپ کی ایک مبینہ چیٹ وائرل ہوئی ہے، جس میں شاندانہ گلزار(Shandana Gulzar) اور ذوالفقار خان نے پارٹی صورت حال پر سوالات اٹھائے، تحریکوں کی ناکامیوں اور جانی نقصان پر گفتگو کی، ذوالفقار خان نے پارٹی کو مسلسل نقصان اٹھانے کا اعتراف کیا جب کہ شاندانہ گلزار نے دہرے معیار پر سوال اٹھائے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی گروپ میں شاندانہ گلزار اور ذوالفقار خان کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں پارٹی کی ماضی کی تحریکوں، موجودہ صورت حال، جانی نقصان اور حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

ذوالفقار خان نے پارٹی کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم دن بدن نقصان اٹھا رہے ہیں اور آج ہم 10 افراد کو بھی اکٹھا نہیں کر سکتے۔ انھوں نے اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ پارٹی نہ خود صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر سکی اور نہ دوسروں کو سمجھا سکی۔

گفتگو میں شاندانہ گلزار نے 4 اکتوبر اور 26 نومبر کے واقعات، تحریکوں کی ناکامیوں اور جانی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی کے مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب کی جیلوں میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد افراد پر تشدد کیا گیا لیکن ہم نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کو کبھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، تو اب یہ دہرا معیار کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟

مزیدپڑھیں:نئے صوبوں کا معاملہ انتہائی سنجیدہ اور پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہے: رانا ثنا اللہ

ذوالفقار خان نے کہا کہ ’’اُس وقت سے آج تک نہ ہم نے غلط کو غلط سمجھا نہ صحیح کو صحیح، نہ خود سمجھنے کی کوشش کی نہ کسی دوسرے کو سمجھانے کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دن بہ دن نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اور بی بی یہ کوئی معمولی نقصان نہیں ہے، آج صورت حال یہ ہے کہ ہم دس لوگوں کو بھی اکٹھا نہیں کر سکتے۔ یہ محض غلطی نہیں تھی، ان چار لوگوں نے جرم کیا ہے، سب کو معلوم تھا کہ اسی طرح ہونے والا ہے۔‘‘

گفتگو میں دونوں ارکان کی جانب سے پارٹی کی حکمت عملی، ماضی کے فیصلوں اور موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔