ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کے مطابق اس ملاقات میں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور آبنائے ہرمز کے انتظام کے ذریعے قومی و علاقائی سلامتی کے تحفظ پر گفتگو ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق و مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔انھوں نے کہا کہ جنگ اور نہ جنگ نہ امن کی کیفیت ختم کرنے کے لیے ملکی قیادت کی طے کردہ شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ محسن رضائی نے گزشتہ روز سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ممالک نے حال ہی میں باہمی دفاعی تعاون کے لیے مکہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
یہ محسن رضائی اور مجتبیٰ خامنہ ای کے درمیان پہلی ملاقات ہے جس کی باضابطہ طور پر تشہیر کی گئی ہے۔ اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزیشکیان اور پارلیمان اسپیکر باقر قالیباف بھی خفیہ ملاقاتیں کرچکے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ نے اپنے والد کی شہادت کے بعد منصب سنبھالا تھا لیکن وہ تاحال منظرعام پر نہیں آئے ہیں اور نہ ان کی تصویر یا ویڈیو جاری کی گئی ہے۔ ان کے بیانات بھی سرکاری میڈیا پر پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای فروری میں امریکا اور اسرائیل کے اُس حملے میں زخمی ہوگئے تھے جس میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے جس کے بعد سے نئے سپریم لیڈر کی صحت کے بارے میں متضاد اطلاعات آتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کے ابتدائی کوچ اولمپئین کی کارکردگی سے مایوس
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے جسے ایران نے امریکا اور اسرائیل کے مارچ میں حملے کے بعد سے بند کر رکھا ہے۔ آئل ٹینکرز متبادل راستہ استعمال کر رہے ہیں جس سے اخراجات اور لاگت میں اضافہ ہونے سے پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہور رہا ہے۔













منگل 27 اکتوبر 2026 

