ایران کی عدالت(Court) نے عالمی شہرت یافتہ فلم ساز جعفر پناہی کو 5 سال اور 1 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے جعفر پناہی کے تمام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ضبط کرنے کے علاوہ 2 سال تک ان پر سوشل میڈیا استعمال کرنے اور بیرونِ ملک سفر کرنے پر پابندی بھی عائد کر دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران کی انقلابی عدالت نے یہ فیصلہ فلم ساز کی غیر موجودگی میں سنایا۔
جعفر پناہی کے وکیل مصطفیٰ نیلی کے مطابق مجھے سماعت کی تاریخ سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا جبکہ اس فیصلے کا علم اس وقت ہوا جب گزشتہ ہفتے میرے مؤکل کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے۔
مزیدپڑھیں: سعودی شہر طائف کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمے کی فائل میں جعفر پناہی کو ایران سے باہر بتایا گیا تھا، حالانکہ وہ 30 مارچ 2026ء کو ملک واپس آ چکے تھے۔
وکیل نے بتایا ہے کہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ نئے مقدمے میں فلم ساز پر کون سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ جعفر پناہی کو دسمبر 2025ء میں بھی ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں 1 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور جون 2026ء میں عدالت نے فلم ساز کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔
جعفر پناہی کے وکیل کے مطابق فلم ساز کے خلاف اس وقت 3 مقدمات زیرِ سماعت ہیں، حال ہی میں سنائی گئی سزا پر عمل درآمد کب ہو گا، اس بارے میں فوری طور پر کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا۔













بدھ 28 اکتوبر 2026 

