الیکشن کمیشن کا 12 قبائلی اضلاع چھوڑ کرKPK میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم

Calender Icon بدھ 28 اکتوبر 2026

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے 12 قبائلی اضلاع کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دے دیا۔

کیس کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا جس میں خیبر پختونخوا کے جن اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے، وہاں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے جن اضلاع میں حدبندی نہیں ہوئی وہاں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرنے کی ہدایت بھی کی ہے جبکہ اس حوالے سے باضابطہ اعلان آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کو انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام تر ضروری اور انتظامی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ ونگ و انتخابی شیڈول پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ رواں برس مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد سے تاخیر کا شکار ہے۔ صوبے میں پہلے مرحلے میں منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کی 4 سالہ مدت مارچ 2026ء جبکہ دوسرے مرحلے کے اداروں کی مدت جون 2026ء میں ختم ہوگئی تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی قوانین میں ترامیم کے باعث حلقہ بندیوں کا عمل متاثر ہوا۔ کمیشن نے جولائی میں بھی واضح کیا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے، تاہم قانونی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے انتخابی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

اکتوبر میں معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا، جب وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا۔ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورت حال، بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور انتظامی مسائل کو جواز بناتے ہوئے 12 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

گزشتہ روز الیکشن کمیشن کی سماعت کے دوران کمیشن کے حکام نے بتایا کہ 23 اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہوچکا ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے سوال اٹھایا کہ جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہیں وہاں انتخابات کرانے میں کیا رکاوٹ ہے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج سنادیا گیا۔

پہلے مرحلے میں انتخابات 19 دسمبر 2021ء کو 17 اضلاع میں ہوئے جبکہ دوسرے مرحلے میں پولنگ 31 مارچ 2022ء کو ہوئی۔ صوبے میں بلدیاتی انتخابات صوبائی بلدیاتی قوانین میں ترامیم اور متعلقہ قانونی کارروائیوں کے باعث تقریباً دو سال کی تاخیر سے منعقد ہوئے تھے۔

پہلے اور دوسرے مرحلے میں منتخب ہونے والی مقامی حکومتوں کی مدت بالترتیب مارچ اور جون 2026ء میں ختم ہوگئی، جس کے بعد صوبے میں منتخب بلدیاتی ادارے اپنی مدت پوری کرچکے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت صوبوں کے لیے مقامی حکومتوں کا قیام اور منتخب نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنا لازم ہے۔

مزید پڑھیں:اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، کم از کم 10 افراد ہلاک

اسی طرح الیکشنز ایکٹ 2017ء کی دفعہ 219(4) کے تحت الیکشن کمیشن پابند ہے کہ کسی مقامی حکومت کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے۔