لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا

Calender Icon بدھ 28 اکتوبر 2026

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت آصف زرداری کو بھجوا دیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور ہائیکورٹ پرنسپل سیٹ پر فرائض انجام دے رہے تھے، نئے ججز روسٹر میں ان کا تبادلہ راولپنڈی بینچ میں کیا گیا تھا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے 2032 میں ریٹائر ہونا تھا، وہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر اور لاہور ہائیکورٹ میں دسویں نمبر پر تھے۔

جسٹس محسن کیانی نے ذاتی وجوہات اور حالیہ سرجری کے بعد صحت سے متعلق خدشات کو استعفے کی وجوہات قرار دیا ہے۔

صدر مملکت کو لکھے گئے استعفے میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اپنے دور میں مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔

جسٹس کیانی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تبدیلیوں نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے استعفے میں مزید کہا کہ عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے، عام سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے، جبکہ انصاف کے متلاشی افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

استعفے کے متن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھنا ان کے ضمیر کو گوارا نہیں، اسی لیے انہوں نے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ وکالت کے شعبے میں واپس آکر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کریں گے۔

جسٹس محسن کیانی اپریل 2026 تک اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج، یعنی سینیئر پیونی جج، تھے۔ 28 اپریل کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے محسن کیانی کا لاہور ہائیکورٹ ، جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائیکورٹ تبادلے کی منظوری دی تھی۔

جسٹس کیانی کا نام 2025 اور 2026 میں ہائیکورٹ ججوں کے تبادلوں، عدالتی سنیارٹی اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے عہدے سے متعلق تنازعات کے باعث نمایاں رہا۔

ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر وکلاء تنظیموں اور بعض قانونی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ناقدین نے شفافیت اور عدالتی آزادی سے متعلق سوالات اٹھائے، دوسری جانب حکومت کا موقف تھا کہ یہ تبادلے آئینی طریقۂ کار کے مطابق کیے گئے۔

خیال رہے جسٹس محسن کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان 6 ججوں میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024 میں خفیہ اداروں پر عدالتی امور میں مبینہ مداخلت کے الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔

مزید پڑھیں:مریم نواز کا ’پنجاب کسان بینک‘ کےقیام کا اعلان، 1کروڑ تک بلا سود قرض کی سہولت ہوگی

ججوں نے مبینہ مداخلت کے واقعات کی تحقیقات اور مستقبل میں ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے رہنمائی طلب کی تھی۔ خط پر جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے دستخط تھے۔