مصنوعی ذہانت کے تجزیاتی ادارے ماڈل کمپیئر نے اپنے 14 ’لارج لینگویج ماڈلز‘ (LLMs) سے انسانوں کے بارے میں ان کی رائے معلوم کی جن میں زیادہ تر نے انسانوں کو غیر منطقی، تعصب کا شکار اور اصولوں کے بجائے وفاداری کو ترجیح دینے والا قرار دیا۔
ماڈل کمپیئر کے مطابق 3 مختلف مواقع پر ہر ماڈل سے ایک ہی سوال پوچھا گیا، ان سے کہا گیا کہ وہ انسانوں کے بارے میں اپنی سب سے متنازع رائے کا بلا جھجک اظہار کریں۔
مصنوعی ذہانت کے ایک ماڈل نے کہا کہ انسان سچ پر کھڑے رہنے کے مقابلے میں گروہ سے تعلق جڑے رہنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جبکہ دوسرے ماڈل کے مطابق زیادہ تر لوگ اچھا کام کرنے کے بجائے خود کو اچھا انسان ثابت کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔
ایک اور ماڈل نے کہا کہ انسان سہولت کو اصولوں کا نام دے کر اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہیں، ایک ماڈل نے کہا کہ انسان تنہا درست ہونے کے بجائے دوسروں کے ساتھ مل کر غلط ہونے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ ایک اور نے رائے دی کہ انسانوں کے پاس اصول کم اور وفاداریاں زیادہ ہیں۔
چینی مصنوعی ذہانت کے ایک ماڈل نے کہا کہ لوگ اپنے گروہ کی منظوری حاصل کرنے کو حقیقی اچھائی سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، ایک اور ماڈل کے مطابق انسان اپنے پیاروں کے تحفظ کے نام پر ظلم کو بھی درست ثابت کرنے لگتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان 14 اے آئی ماڈلز کی انسانوں سے متعلق تمام آراء منفی نہیں تھیں، ایک ماڈل نے نسبتاً مثبت رائے دیتے ہوئے کہا کہ انسان اپنی سوچ سے کہیں زیادہ اچھے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں حد سے زیادہ بدگمانی ان کی حقیقی خامیوں سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔
ادارے نے مصنوعی ذہانت کے 6 امیج ماڈلز سے بھی انسانیت پر تبصرہ کرنے والی تصاویر بنانے کو کہا، ان میں سے 12 تصاویر میں سے 10 کو ادارے نے ایسی تصاویر قرار دیا جن میں انسانوں کو موبائل فون کے عادی صارفین کے طور پر دکھایا گیا جو زمین کے وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں، باقی 2 تصاویر میں کوئی واضح پیغام نظر نہیں آیا۔
جن 14 مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی آراء حاصل کی گئیں ان میں جی پی ٹی 6.1 سول، جی پی ٹی 6.1 ٹیرا، جی پی ٹی 6 آسٹرا، جیمنائی 4 آرگن، ڈیپ سیک وی 4 پرو، کیمی کے 3، کیمی کے 3.1 پرو، کیوین 3.8، 2.4 ٹی اے 95 بی، میوز اسپارک اوپن، گروک 4.7، کلاڈ اوپس 5.5، کلاڈ فیبل 5.1، جی ایل ایم 5.3 اور مسٹرل لارج 4 شامل تھے۔
رپورٹ میں ان ماڈلز کا تعلق 3 ممالک کی 10 مصنوعی ذہانت کی تجربہ گاہوں سے بتایا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر ماہرین کی تشویش
دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک نے خبردار کیا ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے ایسے خطرات موجود ہیں جن کے نتیجے میں پوری انسانیت ختم ہونے کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تیاری کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات نہ کرنے کا موازنہ وبائی امراض، خصوصاً کوویڈ 19 سے نمٹنے کی ناکافی تیاری سے کیا اور خبردار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی جلد مجموعی انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے معروف ماہر اور نوبیل انعام یافتہ جیفری ہنٹن نے بھی خبردار کیا ہے کہ مشینیں انسانوں سے زیادہ ذہین ہیں اور مناسب کنٹرول نہ ہونے کی صورت میں انہیں بند کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ہنٹن نے یہ بھی کہا ہے کہ مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ میں نے اپنی زندگی اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے وقف کی جو اب انتہائی خطرناک ہو چکی ہے، لوگ اس کے خطرات کو مناسب سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔
ان کے مطابق انسانیت کی سب سے بڑی غلطی یہ ہو گی کہ وہ اپنی تیار کردہ ذہین مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے ساتھ محفوظ بقائے باہمی کے طریقے تلاش کرنے کے لیے تحقیق میں سرمایہ کاری نہ کرے۔













جمعرات 29 اکتوبر 2026 

