امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایران سے رابطے کی کوشش پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے ہونے والا اضافہ جزوی طور پر واپس آگیا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کے بعد سرمایہ کاروں نے مثبت توقعات وابستہ کرلیں۔
آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 114.14 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 101.45 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ قیمتیں بدھ کے مقابلے میں کم ہوئیں، تاہم اکتوبر کے آغاز کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی کو خط لکھ کر امن معاہدے کے امکانات پر بات کی۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی کے تناظر میں سامنے آئی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس رابطے سے آگاہ تھے اور انہوں نے ہی اس کی منظوری بھی دی تھی۔
دوسری جانب قطر کے ثالثوں نے ایران کو امن معاہدے کا نیا مسودہ پیش کیا ہے۔ ایران نے سفارتی حل کی امید برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ امن معاہدے کے لیے اس کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے ڈرون حملوں میں بظاہر وقفہ آیا ہے۔ جے پی مورگن کے مطابق روس کی ریازان آئل ریفائنری پر آخری حملہ 15 اکتوبر کو ہوا تھا۔
عالمی منڈی میں تیل کے تاجروں کی توجہ اب ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات اور مشرق وسطیٰ میں توانائی کی رسد کو لاحق خطرات پر مرکوز ہے۔
مزید پڑھیں:غذائی بحران کا خطرہ، عالمی بینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
واضح رہے کہ اس ہفتے کاروبار کے ابتدائی دو روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی تاہم گزشتہ روز سعودی عرب پر حوثی حملے کی اطلاعات پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم آج پھر ایران امریکا امن مذاکرات کی امید پر قیمتیں نیچے آ گئیں۔













جمعرات 29 اکتوبر 2026 

