اسلام آباد: بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد بڑھا دی گئی، جو اب 20 لاکھ سے بڑھ کر 30 لاکھ ہوگئی ہے۔
بینکوں میں یومیہ 30 لاکھ روپے سے زائد نقد لین دین کی رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو دینا ہوگی، اس سے قبل رپورٹنگ کے لیے یہ حد 20 لاکھ روپے مقرر تھی۔
ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مالیاتی نگرانی کے نظام میں مزید تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو بھی اختیارات دینے پر اتفاق ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو اختیارات دینے کا فیصلہ متعلقہ (ایس او پیز) کی تکمیل سے مشروط کیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات کو بھی انسداد منی لانڈرنگ کے نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں:اسرائیلی انتخابات، عرب جماعتیں کنگ میکر، نیتن یاہو اور اپوزیشن دونوں اکثریت سے محروم
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت اختیارات دے دیے گئے ہیں، جس کا مقصد مالیاتی لین دین کی نگرانی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔













جمعرات 29 اکتوبر 2026 

