اسلام آباد میں پانچ روزہ پاک۔اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی ہے، جس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت 250 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی اور خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد میں پانچ روزہ پاک۔اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس کامیابی سے اختتام پذیر ہو گئی ہے، جس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت 250 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی。 کانفرنس کا بنیادی محور خلائی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موثر حکمتِ عملی طے کرنا تھا
اس اہم تقریب کے دوران 17 سیشنز، 67 تکنیکی پریزنٹیشنز، 10 کلیدی خطابات اور 5 پینل مباحثے منعقد کیے گئے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو قدرتی آفات کے بعد ردعمل دینے کے بجائے پیشگی تیاری پر توجہ دینا ہوگی انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قبل از وقت انتباہی نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ متاثرہ آبادی اور مقامات کی بروقت نشاندہی کی جا سکے
سپارکو (SUPARCO) کے حکام نے کانفرنس کے دوران “پاکستان اسپیس فار کلائمیٹ اقدام” بھی پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی خلائی صلاحیتیں موسمیاتی نگرانی اور آفات کے خطرات کے تخمینے میں کلیدی کردار ادا کریں گی اقوام متحدہ کے نمائندے نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ جدید خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے عالمی تعاون اور باہمی معلومات کا تبادلہ انتہائی ضروری ہے。 کانفرنس کے اختتام پر کمزور اور متاثرہ آبادیوں تک بروقت انتباہ پہنچانے اور عالمی وژن کے فروغ کے عزم کو دہرایا گیا۔













ہفتہ 31 اکتوبر 2026 

