اٹھائیسویں ترمیم بہتری کے لیے ہوئی تو پیپلز پارٹی سپورٹ کرے گی:سعید غنی

Calender Icon ہفتہ 31 اکتوبر 2026

پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے ایک تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 28 ویں ترمیم اگر بہتری کے لیے لائی گئی تو پارٹی اس کا ضرور ساتھ دے گی۔

کراچی میں پاکستان فرسٹ فرنیچر ٹریڈ شو کے دوسرے روز بطور مہمانِ خصوصی شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ سال فرسٹ ایکسپو آزادی کے نام سے سجایا گیا تھا جبکہ اس دوسرے ایڈیشن کا نام علامہ اقبال سے منسوب کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے 150 اسٹالز کے مقابلے میں اس سال ایکسپو میں 200 کے قریب اسٹال لگائے گئے ہیں جن میں مقامی فرنیچر کے اسٹالز کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے عوام سے گزارش کی کہ وہ اس نمائش کا دورہ کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے مقابلے میں ہمارے ملک میں فرنیچر کی قیمتیں کم ہیں اور ہمارا تیار کردہ شاندار فرنیچر پوری دنیا میں برآمد کیا جاتا ہے۔

کراچی کے مسائل اور وفاق کے رویے پر بات کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ کراچی جیسا بڑا شہر پورے ملک کو سنبھالتا ہے اور ملک بھر سے آنے والے لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی شہر کی اتنی زیادہ اہمیت ہو تو وفاقی حکومت کی بھی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کراچی کے ساتھ وہ تعاون نہیں کیا جاتا جو اس کا حق ہے۔ کراچی کے ساتھ ناانصافی کی یہ بحث برسوں سے چلی آ رہی ہے۔

انہوں نے کے ایم سی اور ریلوے کے درمیان سڑک کے تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس سڑک کی بات ہو رہی ہے وہ بنیادی طور پر ریلوے کی زمین تھی۔ وہاں ترقیاتی کام تو اچھا ہو رہا تھا لیکن دو سرکاری اور وفاقی اداروں کے آپس میں الجھنے سے اس معاملے نے غلط رنگ لے لیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اداروں کو بیٹھ کر یہ معاملہ حل کرنا چاہیے تاکہ عوام کے لیے سڑک کا کام جلد مکمل ہو سکے۔ کے ایم سی نے کچے راستے کو پکا کر کے لوگوں کی سہولت کے لیے سڑک بنانے کی کوشش کی۔ اگر ریلوے کو کوئی اعتراض تھا تو اسے پہلے ہی روکا جانا چاہیے تھا، اب اس تنازع کو آگے بڑھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

حیدرآباد والی سڑک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی تعمیر کا فیصلہ بڑے عرصے بعد کیا گیا تھا۔ سڑک پر موجود بجلی کے پولز کوئی عام پول نہیں ہیں، لیکن لوگوں کو سہولت دینے کے لیے سڑک بنائی گئی جسے بعد میں غلط رنگ دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی میرے حلقے میں ایسے مسائل سامنے آئے اور تعمیراتی کام کو روکا گیا۔

آئین کی اٹھائیسویں ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے واضح کیا کہ تاحال 28 ویں ترمیم کا کوئی بھی مسودہ یا پیپر ان کے سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب باضابطہ طور پر ترمیم کا متن سامنے آئے گا تو پیپلز پارٹی اس پر تفصیل سے بات چیت کرے گی، اور اگر یہ ترمیم ملک و قوم کی بہتری کے لیے ہوئی تو پیپلز پارٹی اس کی مکمل حمایت اور سپورٹ کرے گی۔