’مولانا ریاست کیخلاف جو باتیں کر رہے ہیں، کیا اس کے بعد وہ ریاست میں رہنے کے قابل ہیں؟‘

Calender Icon اتوار 1 نومبر 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی(Faisal Karim Kundi) نے ریاست مخالف بیانیے پر جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ ریاست مخالف بیانیے پر ان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیانات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، مگر مولانا ریاست کے خلاف جو باتیں کر رہے ہیں، کیا اس کے بعد وہ ریاست میں رہنے کے قابل ہیں؟

گورنر کے پی نے مزید کہا کہ مولانا دوسروں کو انصاف اور برابری کا درس دیتے ہیں، لیکن جب خوشاب اور کراچی میں ڈی سی تعینات ہوئے تو اس وقت انصاف کہاں تھا۔ ان کے بھائی پی ٹی سی ایل، افغان ریفیوجی کمشنر بنے اور دوسروں کے حق پر ڈاکا ڈالا۔

مزیدپڑھیں:بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارش جبکہ پہاڑوں پر ہلکی برفباری کا امکان

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اگر مولانا خود زمینوں پر قبضہ اور قبضہ مافیا بنیں گے تو لوگوں کو کیا درس دیں گے؟ کیا وہ لوگوں کو یہ درس دیں گے کہ وہ بھی دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کریں؟ شہدا سے متعلق بات کرتے ہیں تو ان کے نام پر آپ لوگوں نے بھی زمینیں حاصل کیں۔ آپ لوگوں کا کیا حق بنتا ہے کہ شہدا کے نام پر زمینیں حاصل کریں؟ مولانا کو چاہیے پہلے خود کو صاف شفاف کریں اور پھر دوسروں کے بارے میں بات کریں۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی کرپشن کے معاملے کو متعلقہ محکمہ دیکھ رہا ہے۔ جب تک بڑے مگرمچھوں کو سزا نہیں ہوگی تب تک کوئی آپ پر اعتماد نہیں کرے گا۔

گورنر کے پی نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عدل و انصاف پر غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ گزشتہ 13 سال کے دوران صوبے میں بہت کچھ ہوا جس پر آہستہ آہستہ قابو پا رہے ہیں۔ امن کی جانب سفر شروع کر رہے ہیں، انشا اللہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں گے۔

فیصل کریم نے مزید کہا کہ وفاق اور صوبہ ایک پیج پر ہیں اور ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ ہم دیگر صوبوں کےساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔