10 اکتوبر کی شام تھی۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ میں ابھی ایک دن باقی تھا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اہم ملاقات جاری تھی جہاں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر(Barrister Gohar) اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
دونوں کے سامنے چائے کے کپ رکھے تھے مگر گفتگو کا موضوع معمولی نہیں تھا۔ بیرسٹر گوہر سہیل آفریدی کو احتجاج ختم کرنے اور حالات کی سنگینی کا ادراک کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وزیراعلیٰ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا، ’میری بات مان لیں اور احتجاج ختم کر دیں ورنہ وفاق صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے میں سنجیدہ ہے۔‘
سہیل آفریدی نے جواب دیا، ’بیرسٹر صاحب! میں بہت آگے بڑھ چکا ہوں، اب میرے لیے احتجاج ختم کرنا ممکن نہیں۔ وفاق صرف دھمکیاں دیتا ہے، وہ کسی بھی صورت گورنر راج نافذ نہیں کرے گا۔‘
سہیل آفریدی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’جو گرجتے ہیں، وہ برستے نہیں۔‘
ملاقات ختم ہوئی تو وزیراعلیٰ ہاؤس کی لابی میں بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک بار پھر انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور کہا، ’سہیل! میری بات مان لیں، وفاق کے تیور بدل چکے ہیں۔‘
سہیل آفریدی نے جواب دیا، ’بیرسٹر صاحب! میں آپ کو جواب دے چکا ہوں۔‘
اس پر بیرسٹر گوہر نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’شاید یہ آخری موقع ہے اور اس کے بعد ہمیں وزیراعلیٰ ہاؤس دیکھنا بھی نصیب نہ ہو۔‘ یہ کہتے ہوئے بیرسٹر گوہر وہاں سے روانہ ہوگئے۔
مزیدپڑھیں:بابر اعظم کو پرانی فارم میں واپسی کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ صادق محمد نے بتادیا
یہ واقعہ بیرسٹر گوہر نے 29 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکا کو سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی سے ملاقات سے قبل وہ اسپیکر ہاؤس میں بابر سلیم سواتی سے بھی ملے تھے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ یہ وقت جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے سنجیدگی اور تدبر سے کام لینے کا ہے۔ ان کے بقول اسپیکر ان کی بات سے اتفاق بھی کر چکے تھے تاہم سہیل آفریدی کسی صورت ان کا مشورہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق سہیل آفریدی آخری وقت تک اس یقین میں تھے کہ وفاق کسی بھی صورت خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے اور صرف اپنی کچن کیبنٹ سے مشاورت کرتے تھے جس میں شفیع جان، شاہد خٹک اور مینا خان آفریدی شامل تھے۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بیرسٹر گوہر نے اپنی طویل گفتگو کے دوران مزید بتایا کہ 10 اکتوبر کو وزیراعلیٰ ہاؤس سے روانہ ہو کر جب وہ صوابی پہنچے تو انہیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کال موصول ہوئی۔ محسن نقوی نے ان سے ملاقات کے نتیجے کے بارے میں پوچھا۔
بیرسٹر گوہر کے بقول انہوں نے جواب دیا کہ ’میں ناکام ہوچکا ہوں سہیل آفریدی میری بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
اس پر محسن نقوی نے انہیں بتایا، ’بیرسٹر صاحب! ہم نے آپ کی تمام شرائط تسلیم کرلی تھیں۔ بانی پی ٹی آئی تک کسی حد تک رسائی بھی ممکن بنائی جارہی تھی اور ان کے علاج معالجے کے لیے بھی عملی اقدامات کی کوشش کی جارہی تھی لیکن شاید اب میرے لیے آپ کی مزید باتیں تسلیم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔‘
بیرسٹر گوہر کے مطابق، اس کے بعد محسن نقوی نے فون بند کردیا۔
انہوں نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ 10 اکتوبر تک وفاق ہم سے مطالبات مانگ رہا تھا لیکن 11 اکتوبر کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور اب ہم وفاق سے مطالبات کر رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی بنی بنائی 2 تہائی اکثریت سے بھی بڑی حکومت جذبات کی نذر کردی۔













منگل 3 نومبر 2026 

