28 سالہ طویل سفر، برطانوی شہری 31 ہزار میل پیدل چل کر گھر پہنچ گیا

Calender Icon منگل 3 نومبر 2026

دنیا گھومنے اور نئی جگہیں دیکھنے کا شوق تو بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے، لیکن برطانیہ(United Kingdom) سے تعلق رکھنے والے ایک مہم جو نے اپنے اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے زندگی کے 28 سال صرف کر دیے۔ کارل بشبی نے چار براعظموں اور تقریباً 30 ممالک کا سفر پیدل طے کرنے کے بعد بالآخر اپنے آبائی شہر پہنچ کر اپنی والدہ سے ملاقات کی تو یہ منظر جذباتی ہوگیا۔

57 سالہ کارل بشبی 2 نومبر کو شمالی انگلینڈ کے شہر ہل میں اپنے گھر پہنچے، جہاں سیکڑوں افراد نے ان کا استقبال کیا۔ گھر کے باہر ان کی والدہ انجیلا اپنے بیٹے کی واپسی کی منتظر تھیں۔ جیسے ہی کارل ان کے قریب پہنچے، والدہ نے انہیں گلے لگا لیا اور جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ گھر کے باہر ان کی آمد پر خوش آمدید کا بینر بھی آویزاں کیا گیا تھا۔

کارل بشبی نے نومبر 1998 میں 29 سال کی عمر میں جنوبی امریکا کے ملک چلی کے شہر پونٹا آریناس سے اپنے غیر معمولی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان کا مقصد بغیر کسی موٹر گاڑی، ہوائی جہاز یا دوسرے ذرائع آمدورفت کے اپنے آبائی شہر برطانیہ واپس پہنچنا تھا۔

اس مہم کو انہوں نے ’گولیاتھ ایکسپیڈیشن‘ کا نام دیا تھا۔ سفر کے آغاز پر ان کے پاس ایک خیمہ، چند سو ڈالر اور ایک سستا کیمرا تھا۔ ابتدا میں انہیں امید تھی کہ وہ تقریباً 12 سال میں یہ فاصلہ طے کرلیں گے، لیکن مختلف مشکلات کے باعث یہ مہم 28 سال تک جاری رہی۔

اس دوران انہوں نے تقریباً 50 ہزار کلومیٹر یعنی 31 ہزار میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا۔

کارل بشبی کا سفر عام سیاحت سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے جنوبی امریکا سے شمالی امریکا تک کا راستہ طے کیا، کولمبیا اور پاناما کے درمیان واقع گھنے جنگلاتی علاقے ڈیرین گیپ کو عبور کیا اور الاسکا سے روس تک منجمد آبنائے بیرنگ کو بھی پیدل پار کیا۔

بعد ازاں وہ منگولیا اور چین سے ہوتے ہوئے آگے بڑھے اور بحیرہ کیسپین کو تیراکی کے ذریعے عبور کیا۔ اس کے علاوہ اپنے سفر کے آخری بڑے مرحلے میں انہوں نے گزشتہ ماہ انگلش چینل بھی تیر کر پار کیا، جس کے بعد برطانیہ میں اپنے گھر تک پیدل پہنچنے کا راستہ ہموار ہوگیا۔

مزیدپڑھیں:سعودی عرب: غیر قانونی تارکین وطن کی مدد پر 6 ماہ قید اور ایک لاکھ ریال جرمانے کی سزائیں

اس طویل مہم کے دوران کارل بشبی کو کئی غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیرین گیپ کے خطرناک جنگلات، روس میں داخلے کے بعد حراست، ویزا پابندیوں اور سفری اخراجات نے ان کے سفر کو بار بار متاثر کیا۔

2008 کے عالمی مالی بحران کے باعث ان کے کئی بڑے اسپانسرز نے بھی تعاون ختم کردیا، جس سے انہیں مالی وسائل جمع کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ بعد ازاں کورونا وبا نے بھی ان کی واپسی میں تاخیر پیدا کی۔

رپورٹس کے مطابق ان کے 28 سالہ سفر میں تقریباً 15 سال حقیقتاً پیدل چلنے میں گزرے، جبکہ باقی وقت ویزا، سفری دستاویزات، مالی وسائل اور دیگر انتظامات میں صرف ہوا۔

اپنے آبائی شہر پہنچنے پر کارل بشبی نے سیکڑوں افراد کی موجودگی میں خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں یہاں تک پہنچانے میں دنیا بھر کے اجنبی لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ ان کا ذاتی سفر تھا، لیکن حقیقت میں دنیا بھر کے لوگوں نے ان کی مدد کی، اس لیے وہ اپنی کامیابی کا سہرا صرف اپنے سر نہیں باندھ سکتے۔

کارل بشبی کی واپسی کے موقع پر ان کا 36 سالہ بیٹا اور 12 سالہ پوتی بھی استقبال کے لیے موجود تھے، جن سے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ملے تھے۔

واضح رہے کہ کارل بشبی کی اس غیر معمولی مہم پر ایک مکمل دورانیے کی دستاویزی فلم بھی تیار کی جارہی ہے، جبکہ وہ آئندہ ہفتوں میں انگلینڈ کے مختلف شہروں میں اپنے سفر کے تجربات بیان کرنے کے لیے تقریبات میں شرکت کریں گے۔ ان کا 28 سالہ سفر اس بات کی مثال بن گیا ہے کہ ایک غیر معمولی مقصد کے لیے ثابت قدمی، ہمت اور دوسروں کا تعاون کس قدر اہم ہوسکتا ہے۔