کافی سب کا پسندیدہ مشروب،مکمل تاریخ، عالمی کاشت، پروسیسنگ، اقسام، ثقافت اور صحت پر اثرات کا جامع جائزہ

Calender Icon جمعہ 30 اکتوبر 2026

دنیا بھر میں پانی کے بعد سب سے زیادہ پیے جانے والے طاقتور، تر و تازہ اور توانائی بخش مشروب کافی نے دنیا کی تجارتی، معاشی اور ثقافتی بنیادوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ روزمرہ کی سستی دور کرنے سے لے کر عالمی سیاست اور اربوں ڈالر کی انٹرنیشنل انڈسٹری تک، کافی کا سفر ایک حیران کن اور طویل تاریخ پر محیط ہے۔

تاریخ اور اوریجنل ریجن: ایتھوپیا کی پہاڑیوں سے عثمانی سلطنت تک:

کافی کی تاریخی شروعات کا اصل مرکز شمال مشرقی افریقہ میں واقع ملک ایتھوپیا کا خطہ کافا (Kaffa) ہے۔ روایات اور تاریخی دستاویزات کے مطابق نویں صدی عیسوی میں خالد نامی ایک حبشی چرواہے نے محسوس کیا کہ اس کی بکریاں جب ایک مخصوص سدا بہار جھاڑی کے سرخ پھل (Coffee Cherries) کھاتی ہیں، تو وہ رات بھر غیر معمولی طور پر پرجوش رہتی ہیں اور سوتی نہیں ہیں۔

عرب دنیا میں پہلا قدم: اس دریافت کے بعد یہ پھل یمن کے صوفیاء اور مذہبی رہنماؤں تک پہنچا۔ یمن کے شہر موکھا (Mocha) میں اس کے بیجوں کو ابال کر ایک خاص جوشاندہ بنایا گیا، جسے رات بھر عبادت کے دوران بیدار رہنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ عرب دنیا میں اسے ’قہوہ‘ کا نام دیا گیا۔

عثمانی سلطنت سے یورپ تک: 15 ویں اور 16 ویں صدی میں کافی استنبول (قسطنطنیہ)، قاہرہ اور مکہ میں اتنی مقبول ہوئی کہ دنیا کے پہلے روایتی کافی ہاؤسز قائم ہوئے۔ 17 ویں صدی میں یہ مشروب یورپی تاجروں کے ذریعے یورپ اور بعد میں برطانوی و ڈچ نوآبادیاتی نظام کے ذریعے امریکہ، برازیل اور جنوب مشرقی ایشیا تک پھیل گیا۔

کافی کا پودا: حیاتیاتی ساخت، درکار ماحول اور لائف سائیکل:
سائنسی نقطہ نظر سے کافی کا تعلق روبیاسی (Rubiaceae) خاندان سے ہے اور اس کا سائنسی نام Coffea ہے۔

حیاتیاتی ساخت، درکار ماحول اور لائف سائیکل سائنسی نقطہ نظر سے کافی کا تعلق Rubiaceae خاندان سے ہے اور اس کا سائنسی نام Coffea ہے۔ کافی کی کاشت اور اس کے پودے کا لائف سائیکل انتہائی دلچسپ اور باقاعدہ مراحل پر مشتمل ہوتا ہے، جو بیج کی بوائی سے لے کر طویل مدتی پیداوار تک جاری رہتا ہے۔بیج کی کاشت اور نرسری کا مرحلہ: بیج کی کاشت سے لے کر پودا بننے میں تقریباً 6 سے 9 ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔ اس ابتدائی مرحلے میں پودے کی بہترین نشوونما کے لیے مناسب نمی اور سایہ درکار ہوتا ہے۔پہلی تجارتی فصل (چیریز کی چنائی): پودا لگانے کے 3 سے 5 سال بعد اس پر سرخ رنگ کی چیریز نمودار ہوتی ہیں جن کی چنائی کی جاتی ہے۔ اس مرحلے پر پودا سال میں 1 سے 2 بار فصل فراہم کرتا ہے۔مجموعی پیداوری عمر: کافی کے پودے کی مجموعی پیداوری عمر 30 سے 40 سال تک ہوتی ہے، جس دوران یہ مسلسل معیاری پھل فراہم کرتا ہے۔

پودے کا وژول اور زرعی ضروریات:

کافی کا پودا گہرے سبز چمکدار پتوں والی ایک سدا بہار جھاڑی یا چھوٹا درخت ہوتا ہے۔ اس پر سفید رنگ کے خوشبودار پھول کھلتے ہیں جن کی مہک چمیلی (Jasmine) سے مشابہت رکھتی ہے۔ پھول مرجھانے کے بعد چھوٹے سبز رنگ کے پھل بنتے ہیں جو پکنے پر گہرے سرخ یا سرخ مائل جامنی ہو جاتے ہیں۔ انہی پھلوں کے گودے کے اندر دو جڑے ہوئے بیج ہوتے ہیں جنہیں ہم ‘کافی بینز’ (Coffee Beans) کہتے ہیں۔

news-01-03

کافی کی بنیادی اور نایاب اقسام:
دنیا میں کافی کی درجنوں اقسام پائی جاتی ہیں، لیکن تجارتی اور غذائی اعتبار سے چار اہم ترین اقسام معروف ہیں:

1. ارابیکا (Coffea Arabica):
یہ دنیا میں استعمال ہونے والی کل کافی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ بناتی ہے۔ یہ سطح سمندر سے 2,000 سے 6,000 فٹ کی بلندی پر اگائی جاتی ہے۔ اس کا ذائقہ نرم، قدرتی طور پر میٹھا اور پھلوں جیسا ہوتا ہے۔ اس میں کیفین کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔

2. روبسٹا (Coffea Canephora/Robusta):
یہ قسم زیادہ سخت جان ہوتی ہے اور کم بلندی والے گرم اور مرطوب علاقوں میں اگتی ہے۔ اس میں ارابیکا کے مقابلے میں دگنی کیفین ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا، تیز اور گہرا ہوتا ہے۔ انسٹنٹ کافی اور ایسپریسو بلینڈز میں اس کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

3. لائبیریکا (Coffea Liberica):
یہ ایک انتہائی نایاب قسم ہے جو بنیادی طور پر فلپائن، ملائیشیا اور مغربی افریقہ میں اگتی ہے۔ اس کے بیج غیر متوازن سائز کے ہوتے ہیں اور اس کا ذائقہ لکڑی اور دھوئیں جیسا مائل ہوتا ہے۔

4. ایکسیلسا (Coffea Excelsa):
یہ بنیادی طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں پائی جاتی ہے اور اس کا ذائقہ کھٹا اور پھل دار ہوتا ہے۔ اسے اکثر دوسری کافیوں کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے بلینڈ کیا جاتا ہے۔

عنصرِ پیداوار اور عالمی مارکیٹ: کون سا ملک کہاں کھڑا ہے؟

پہلا درجہ برازیل (Brazil):
عالمی کافی مارکیٹ میں برازیل کا حصہ سب سے زیادہ ہے، جو اکیلے دنیا کی کل پیداوار کا 35 فیصد سے 40 فیصد فراہم کرتا ہے۔ یہ ملک ارابیکا اور روبسٹا دونوں اقسام کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

دوسرا درجہ ویتنام (Vietnam):
ویتنام عالمی پیداوار کا تقریباً 18 فیصد سے 20 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔ یہ ملک خاص طور پرروبسٹاکافی کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا پیداکار مانا جاتا ہے۔

تیسرا درجہ کولمبیا (Colombia):
کولمبیا عالمی کافی کی پیداوار کا لگ بھگ 8 فیصد سے 10 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے اور یہ دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ ترین معیاری ارابیکا کافی کے لیے مشہور ہے۔

چوتھادرجہ انڈونیشیا (Indonesia):
جنوب مشرقی ایشیا کا یہ ملک عالمی مارکیٹ میں تقریباً 6 فیصدکافی فراہم کرتا ہے، جہاں بنیادی طور پر روبسٹا کے ساتھ ساتھ کچھ انتہائی نایاب ارابیکا اقسام بھی اگائی جاتی ہیں۔

پانچواںدرجہ ایتھوپیا (Ethiopia):
کافی کے اصل آبائی خطے کے طور پر ایتھوپیا دنیا کی کل پیداوار کا تقریباً 5 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، اور یہاں کی ارابیکا کافی کو اس کی قدرتی خصوصیات کی وجہ سے عالمی سطح پر امتیازی حیثیت حاصل ہے۔
کافی کی پیداوار کی جغرافیائی حد کو کافی بیلٹ (Bean Belt) کہا جاتا ہے، جو خطِ استوا (Equator) کے ارد گرد استوائی اور نیم استوائی علاقوں پر مشتمل ہے۔

سب سے زیادہ کافی استعمال کرنے والے ممالک:
حیران کن طور پر پیداوار دینے والے ممالک کے برعکس کافی کا فی کس سب سے زیادہ استعمال سرد یورپی اور اسکینڈی نیوین ممالک میں ہوتا ہے:

1. فن لینڈ (Finland): فی کس سالانہ تقریباً 12 کلوگرام کافی۔
2. نارویج (Norway): فی کس سالانہ تقریباً 9.9 کلوگرام۔
3. آئس لینڈ اور ڈنمارک: سالانہ 8 سے 9 کلوگرام فی کس۔

news-01-01

کافی کی فصل سے کپ تک: پروسیسنگ کے پانچ پیچیدہ مراحل:
کافی کے خام بیج کو پینے کے قابل بنانے کے لیے انتہائی باریک اور سائنسی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:

1. ہالویسٹنگ (Harvesting):
سرخ چیریز کو ہاتھ سے چنا جاتا ہے (Selective Picking) یا بڑی مشینوں کے ذریعے ایک ساتھ اتارا جاتا ہے۔

2. پلمپنگ اور پروسیسنگ (Processing):
ڈرائی پروسیس (Natural Process): چیریز کو ہفتوں دھوپ میں سکھایا جاتا ہے جس کے بعد خشک گودا اتار لیا جاتا ہے۔
ویٹ پروسیس (Washed Process): پانی کی مدد سے گودا فوراً الگ کیا جاتا ہے اور بیجوں کو تخمیر (Fermentation) کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

3. ہلنگ اور گرڈنگ (Hulling & Grading):
بیجوں کے اوپر موجود کاغذی جھلی کو اتار کر ان کا سائز اور معیار کے مطابق معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس حالت میں اسے ’گرین کافی‘ (Green Coffee) کہا جاتا ہے۔

4. روسٹنگ (Roasting):
یہ سب سے اہم مرحلہ ہے۔ گرین کافی کو 200 سے 240 ڈگری سینٹی گریڈ پر گھومنے والے اوون میں بھونا جاتا ہے۔ اس سے بیجوں میں موجود قدرتی تیل باہر آتا ہے اور کافی کی مخصوص خوشبو، کڑواہٹ اور براؤن رنگ پیدا ہوتا ہے۔ (لائٹ، میڈیم اور ڈارک روسٹ)۔

5. گرائنڈنگ (Grinding):
بھوننے کے بعد بینز کو تیار کیے جانے والے مشروب کی نوعیت کے مطابق باریک، درمیانہ یا موٹا پیسا جاتا ہے۔

news-01-02
کافی بنانے کے مختلف طریقے اور عالمی رواج:
ایسپریسو (Espresso):
اطالوی طریقہ کار، جس میں باریک پسی ہوئی کافی کے اوپر سے 9 بار کے انتہائی تیز دباؤ کے ساتھ تقریباً کھولتا ہوا پانی گزارا جاتا ہے۔

لیٹے اور کپچینو (Latte & Cappuccino):
ایک یا دو شاٹ ایسپریسو کے اندر بھاپ سے گرم کیے گئے دودھ (Steamed Milk) اور دودھ کی جھاگ (Foam) کا آمیزہ۔

فرینچ پریس (French Press):
موٹی پسی کافی کو گرم پانی میں 4 منٹ دم دے کر پسٹن کے ذریعے چھانا جاتا ہے۔

ترکش کافی (Turkish Coffee):
انتہائی باریک پاؤڈر کو پانی اور چینی کے ساتھ پیتل یا تانبے کے برتن (Cezve) میں براہِ راست ابال کر بغیر چھانے چھوٹے کپوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

ڈرپ کافی / فلٹر کافی (Drip / Pour-Over):
فلٹر پیپر میں کافی رکھ کر اوپر سے آہستہ آہستہ گرم پانی ڈالا جاتا ہے۔

کولڈ بریو (Cold Brew):
کافی کو ٹھنڈے یا نارمل پانی میں 12 سے 24 گھنٹے تک بھگو کر رکھ دیا جاتا ہے، جس سے کم تیزابیت والا ٹھنڈا مشروب بنتا ہے۔

کافی سے تیار ہونے والے دنیا بھر کے اہم ترین مشروبات:
کافی سے بننے والے اکثر عالمی مشروبات کی بنیاد ایسپریسو (Espresso) یعنی کافی کا گاڑھا ست ہوتا ہے۔ اس میں دودھ، پانی، جھاگ، یا چاکلیٹ کی مختلف مقداریں ملا کر درج ذیل مقبول ترین اقسام بنائی جاتی ہیں:

1. گرم مشروبات (Hot Coffee Drinks):
ایسپریسو (Espresso): خالص کافی کا نچوڑ جو بغیر دودھ یا پانی کے چھوٹے کپ میں دیا جاتا ہے۔

امریکانو (Americano): ایسپریسو کے ایک شاٹ میں گرم پانی ملا کر بنایا جانے والا ہلکا مشروب۔

کپچینو (Cappuccino): برابر مقدار میں ایسپریسو، بھاپ سے گرم کیا گیا دودھ (Steamed Milk) اور دودھ کی گاڑھی جھاگ (Foam)۔

لیٹے (Caffe Latte): ایک شاٹ ایسپریسو میں زیادہ مقدار میں گرم دودھ اور اوپر ہلکی سی جھاگ۔

موکا (Caffe Mocha): ایسپریسو، گرم دودھ اور چاکلیٹ سیرپ یا کوکو پاؤڈر کا آمیزہ۔

فلیٹ وائٹ (Flat White): آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا مقبول مشروب، جس میں ایسپریسو کے ساتھ بالکل باریک مائیکرو فوم والا دودھ ملایا جاتا ہے۔

مکیاٹو (Macchiato): ایسپریسو کے اوپر صرف ایک چمچ دودھ کی جھاگ ڈالی جاتی ہے۔

ترکش کافی (Turkish Coffee): برتن میں پانی، چینی اور باریک کافی پاؤڈر کو ابال کر بنایا جانے والا روایتی قہوہ۔

عربی قہوہ (Qahwa): الائچی، زعفران اور روز واٹر کے ساتھ بغیر دودھ کے پیش کیا جانے والا قہوہ۔

رومانو (Espresso Romano): ایسپریسو کا شاٹ جس میں لیموں کا ایک سلائس یا رس شامل کیا جاتا ہے۔

 

2. ٹھنڈے اور شیک والے مشروبات (Cold & Ice Drinks):

آئسڈ ایسپریسو / آئسڈ لیٹے: ایسپریسو کو برف اور ٹھنڈے دودھ کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔

فریپینو / فریپے (Frappuccino): کافی، برف، دودھ اور فلپ سیروپ کو بلینڈر میں گرائنڈ کر کے اوپر سے وپڈ کریم ڈالی جاتی ہے۔

کولڈ بریو (Cold Brew): ٹھنڈے پانی میں 12 سے 24 گھنٹے تک بھگو کر تیار کیا جانے والا کم تیزابیت والا مشروب۔

افوگاٹو (Affogato): اطالوی ڈیزرٹ مشروب، جس میں ونیلا آئس کریم کے ایک اسکوپ پر گرم ایسپریسو کا شاٹ ڈالا جاتا ہے۔

نائٹرو کولڈ بریو (Nitro Cold Brew): کولڈ بریو کافی میں نائٹروجن گیس شامل کی جاتی ہے، جس سے اس کا ٹیکسٹچر کریمی ہو جاتا ہے۔

 

کافی کہاں کہاں اور کتنی مقدار میں استعمال ہوتی ہے؟
کافی کا استعمال صرف کپ میں پینے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کی مختلف بڑی انڈسٹریز کا بنیادی جزو ہے:

1. غذائی صنعت اور بیکری (Food & Confectionery Industry):
تیار مصنوعات: مشہور اطالوی ڈش تیرامیسو (Tiramisu)، کافی آئس کریم، ڈارک چاکلیٹس، کافی کیک، اور بسکٹس میں کافی کا ایکسٹریکٹ استعمال ہوتا ہے۔
مقدار: بیکری مصنوعات میں عام طور پر 1 سے 3 فیصد تک کافی کا پاؤڈر یا اس کا نچوڑ ذائقے اور خوشبو کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔

2. شیمپو اور سکن کیئر (Cosmetics & Skincare):
استعمال: کیفین جلد کے خلیات میں خون کی گردش تیز کرتی ہے اور سوجن کو کم کرتی ہے۔
مصنوعات: آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے (Dark Circles) ختم کرنے والی کریموں، اینٹی ایجنگ سیرم، اور باڈی اسکرپ (Coffee Scrub) میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ کافی پر مبنی شیمپو بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے بھی بنائے جاتے ہیں۔
مقدار: کاسمیٹک پروڈکٹس میں 0.5% سے 3% تک کیفین یا کافی کا تیل استعمال کیا جاتا ہے۔

3. ادویات کی صنعت (Pharmaceutical Industry):
درد کش ادویات (Painkillers): کیفین کو ڈسپرین، پیراسیٹامول اور پین کلرز میں شامل کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دوا کے اثر کو تیز کرتی ہے اور سر درد سے فوری راحت دیتی ہے۔
وزن گھٹانے کی ادویات: فیٹ برنر اور ڈائیٹ سپلیمنٹس میں گرین کافی بین ایکسٹریکٹ (Green Coffee Extract) ملا کر ادویات تیار کی جاتی ہیں۔
مقدار: طبی ادویات کی ایک گولی میں کیفین کی مقدار 30 ملی گرام سے 65 ملی گرام تک رکھی جاتی ہے۔

عالمی سطح پر مشہور ترین کیفے برانڈز اور قیمتی کافی:
مشہور انٹرنیشنل کیفے برانڈز:
اسٹار بکس (Starbucks): امریکہ کا قائم کردہ دنیا کا سب سے بڑا کیفے چین جس کے 35,000 سے زائد آؤٹ لیٹس ہیں۔
کوسٹا کافی (Costa Coffee): برطانیہ کا بڑا برانڈ۔
ٹم ہارٹنز (Tim Hortons): کینیڈا کی قومی شناخت کا حامل کیفے برانڈ۔
لاوازا (Lavazza): اٹلی کا قدیم اور معیاری روایتی برانڈ۔

دنیا کی سب سے مہنگی کافی (Kopi Luwak):
انڈونیشیا میں پائی جانے والی یہ کافی ایک جنگلی بلی (Asian Palm Civet) کے نظامِ ہضم سے گزرنے کے بعد اس کے فضلے سے حاصل کیے گئے بیجوں کو دھو کر اور بھون کر بنائی جاتی ہے۔ اس کی قیمت 500 سے 600 ڈالر فی کلوگرام تک ہوتی ہے۔

طبی تحقیقات: کافی کے فوائد اور انسانی جسم پر اثرات:
صحت کے لیے فوائد:

دماغی بیداری: کافی میں موجود کیفین (Caffeine) دماغ میں موجود اڈینوسین (Adenosine) نامی کیمیکل کو بلاک کرتی ہے جس سے تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔

وزن میں کمی: یہ جسم کے میٹابولک ریٹ کو 3 سے 11 فیصد تک بڑھاتی ہے جس سے چربی جلانے کے عمل میں تیزی آتی ہے۔

بیماریوں کے خلاف تحفظ: جدید تحقیقات کے مطابق باقاعدگی سے بلیک کافی پینے والے افراد میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 25% سے 30%، جبکہ الزائمر اور پارکنسنز کا خطرہ 60% تک کم ہو جاتا ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس: مغربی غذاؤں میں کافی اینٹی آکسیڈنٹس حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ مانی جاتی ہے۔

نقصانات اور منفی اثرات:
1. نیند کا نظام (Sleep Cycle): سونے سے 6 گھنٹے قبل کافی پینے سے نیند کا معیار شدید متاثر ہوتا ہے۔
2. معدہ (Stomach): خالی پیٹ کالی کافی پینے سے معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کی مقدار بڑھتی ہے جس سے تیزابیت اور السر کا خطرہ ہوتا ہے۔
3. دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر: کیفین کی زیادہ مقدار سے دل کی دھڑکن تیز (Palpitations) اور بلڈ پریشر عارضی طور پر بڑھ سکتا ہے۔
4. حمل اور لڈریز: حاملہ خواتین کے لیے زیادہ کیفین کا استعمال جنین کی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہے۔

چائے اور کافی میں طبی و غذائی افادیت کا موازنہ:
کیفین کی مقدار اور فوری توانائی:
کافی میں چائے کے مقابلے میں کیفین کی مقدار تقریباً دگنی ہوتی ہے۔ ایک کپ کافی میں اندازاً 80 سے 100 ملی گرام کیفین ہوتی ہے جو جسم کو فوری طور پر بیدار اور الرٹ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، ایک کپ چائے میں 30 سے 50 ملی گرام کیفین ہوتی ہے، جو جسم کو یکدم جھٹکا دینے کے بجائے آہستہ اور تدریجی توانائی فراہم کرتی ہے۔

ذہنی سکون اور فوکس (L-Theanine کا کردار):
چائے میں ایل-تھیانین (L-Theanine) نامی ایک نایاب امائنو ایسڈ پایا جاتا ہے جو کیفین کے ساتھ مل کر دماغ کو بغیر بے چینی یا گھبراہٹ کے پرسکون فوکس فراہم کرتا ہے۔ کافی اکثر بعض افراد میں زیادہ کیفین کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز کرنے یا گھبراہٹ (Jitters) کا باعث بن سکتی ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس کی موجودگی:
دونوں مشروبات میں خلیات کی توڑ پھوڑ اور بیماریوں سے بچانے والے اینٹی آکسیڈنٹس کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ چائے (خصوصاً گرین ٹی) میںفلاوونائڈز اورکیٹچنز پائے جاتے ہیں جو مدافعتی نظام اور دل کی صحت کے لیے بہترین ہیں، جبکہ کافی میںکلوروجینک ایسڈپایا جاتا ہے جو ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

وزن میں کمی اور میٹابولزم:
کافی جسم کے میٹابولک ریٹ کو تیز کرنے اور ورک آؤٹ سے پہلے چربی جلانے کے عمل میں چائے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ تاہم چائے معدے کے نظامِ ہضم کو بہتر رکھنے اور جسمانی سوجن کو کم کرنے میں زیادہ بہتر مانی جاتی ہے۔

کون سا مشروب کس کے لیے بہتر ہے؟

1.کافی کا استعمال ان کے لیے بہتر ہے:
جن افراد کو صبح کے وقت فوراً شدید بیداری، توانائی اور تیز توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ورزشی اور جسمانی محنت کرنے والے افراد جو ورک آؤٹ سے پہلے پرفارمنس بڑھانا چاہتے ہیں۔
وہ لوگ جو وزن کم کرنے کے لیے میٹابولزم تیز کرنا چاہتے ہیں۔

2.چائے کا استعمال ان کے لیے بہتر ہے:
وہ افراد جنہیں کافی پینے سے گھبراہٹ، تیزابیت یا نیند میں خلل کی شکایت ہوتی ہے۔
جو لوگ دن بھر ہلکی اور طویل مدتی توجہ اور پرسکون ذہن چاہتے ہیں۔
معدے کے حساس اور بلڈ پریشر کا شکار افراد۔

پاکستان میں کافی کی کاشت: امکانی علاقے اور تجارتی مستقبل:
پاکستان سالانہ اربوں روپے کی غیر ملکی انسٹنٹ اور روسٹڈ کافی درآمد کرتا ہے۔ تاہم زرعی تحقیقاتی اداروں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں کی آب و ہوا کافی کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے:

ہزارہ ڈویژن (ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور): ان علاقوں کا درجہ حرارت اور نمی ارابیکا کافی کی کاشت کے لیے مثالی پائے گئے ہیں۔

پٹھوہار کا خطہ (اسلام آباد، راولپنڈی، کلر کہار): پوٹھوہار کے مرطوب اور پہاڑی دھارے میں نرسری تیار کر کے کامیابی سے پودے اگائے گئے ہیں۔

آزاد کشمیر اور سوات: نم دار ڈھلوانیں اور سالانہ بہترین بارش کا تناسب ان علاقوں کو آئندہ چند سالوں میں پاکستان میں کافی کی پیداوار کا حب بنا سکتا ہے۔

قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (NARC) اور صوبائی زرعی ادارے اب پاکستانی کسانوں کو کافی کے پودے اور نرسریاں فراہم کر رہے ہیں تاکہ ملک میں مقامی سطح پر کافی کی انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکے۔