بالی وڈ اداکار عمران خان(Imran khan) نے بھارت میں احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے باعث پیدا ہونے والے قانونی تنازع کے بعد بمبئی ہائی کورٹ میں غیر مشروط معذرت کرتے ہوئے آئندہ کسی بھی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اداکار نے عدالت میں جمع کرائے گئے تحریری بیان میں وعدہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں نہ تو کسی احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوں گے اور نہ ہی براہِ راست یا بالواسطہ کسی دوسرے شخص کو ایسے مظاہروں میں شرکت پر اکسائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟
عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ وہ 10 اکتوبر کو جنوبی ممبئی کے آگسٹ کرانتی میدان کے قریب ہونے والے مظاہرے میں صرف یہ جاننے کے لیے گئے تھے کہ لوگوں کی نقل و حرکت کیوں محدود کی جا رہی ہے اور ان کی آواز کیوں دبائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق احتجاج میں شرکت کا مقصد کسی قسم کے مطالبات کرنا یا مظاہرین کے مؤقف پر اثر انداز ہونا نہیں تھا۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد مارے گئے
سماعت کے دوران چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت ایم سیٹھنا پر مشتمل بینچ نے سوال اٹھایا کہ اداکار نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق احتجاج میں شرکت کیوں کی جبکہ وہ خود اس عمل سے براہِ راست متاثر نہیں تھے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (OCI) کارڈ ہولڈر ہونے کی حیثیت سے عمران خان کو بھارتی شہریوں کے برابر آئینی حقوق حاصل نہیں اور وہ ایسی سرگرمیوں میں شرکت کا وہی حق نہیں رکھتے جو بھارتی شہریوں کو حاصل ہے۔
تاہم اداکار کی جانب سے آئندہ احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی ریکارڈ پر لینے کے بعد عدالت نے حکام کو ان کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔
عمران خان نے اپنے تحریری بیان میں بھارت کے ساتھ 42 سالہ تعلق، بے داغ قانونی ریکارڈ اور ذاتی و پیشہ ورانہ وابستگیوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ بھارتی قوانین کی پاسداری کی ہے اور انہیں بھارت اور اس کے آئین سے بے حد محبت اور احترام ہے۔
اداکار نے مزید بتایا کہ ان کی شادی بھارت میں ہوئی، ان کی ایک بیٹی ہے جبکہ ان کے خاندان کے بیشتر افراد بھی بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹیکس کی ادائیگی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ذریعے بھی بھارتی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عمران خان نے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) کی جانب سے جاری کردہ بھارت چھوڑنے کے نوٹس کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالت نے مذکورہ نوٹس 7 دسمبر تک معطل کر دیا ہے اور اس دوران اداکار کو بھارت میں قانون کی پابندی کرتے ہوئے کسی بھی احتجاجی سرگرمی سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔













بدھ 4 نومبر 2026 

