عالمی منڈی میں بدھ کو تیل(Oil Prices) کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کار امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے واشنگٹن کے آئندہ لائحہ عمل کے منتظر ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت سے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
گرینچ مین ٹائم کے مطابق صبح 7 بج کر 30 منٹ پر برینٹ خام تیل کے سودے 76 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے سے 104.36 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 63 سینٹ یا 0.7 فیصد بڑھ کر 96.72 ڈالر فی بیرل ہوگئی، اس طرح ابتدائی کمی کا رجحان پلٹ گیا۔
گزشتہ کاروباری سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً چار ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوئی تھی، کیونکہ تاجروں نے یوکرین اور ایران کی جنگیں ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لیا۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری تھی، جن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے، جو ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے باقی عرصے تک برقرار رہے گی۔
مزیدپڑھیں:بھارتی باکسر نے پاکستانی حریف رحیم پردیسی کو تھپڑ جڑ دیا
فلپ نووا میں مارکیٹ انسائٹس کی سربراہ پریانکا سچدیوہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات، ایک جانب فوجی حملوں کا جاری رہنا اور دوسری جانب مزید کشیدگی کے امکانات کو کم ظاہر کرنا، تاجروں کے لیے مارکیٹ کی سمت کا واضح اندازہ لگانا مشکل بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد کچھ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کا حصول اور طویل مدتی قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری میں کمی مناسب دکھائی دیتی ہے۔
تاہم، ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف تیل کی فراہمی میں ممکنہ تعطل کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔ امریکی خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع کمی بھی قیمتوں کو بنیادی معاونت فراہم کر رہی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے منگل کو بتایا کہ امریکا نے ایران کے جزیرے قشم پر دفاعی نوعیت کے حملے کیے، جن میں امریکی تنصیبات کے خلاف استعمال ہونے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک دوسرے عہدیدار کے مطابق یہ حملے محدود نوعیت کے دکھائی دیتے ہیں اور ان سے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کی بحالی کا اشارہ نہیں ملتا۔
ادھر مارکیٹ ذرائع نے بدھ کو امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 52 لاکھ 70 ہزار بیرل کی کمی ہوئی۔













بدھ 4 نومبر 2026 

