عوام نے تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کا پیغام دیا، باراک اوباما

Calender Icon بدھ 4 نومبر 2026

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے امریکی انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کا پیغام دیا۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے مطابق ری پبلکن کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی برتری کھو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس کیساتھ مل کر کام کروں گا۔

ایکس پر جاری بیان میں باراک اوباما کا کہنا تھا کہ عوام ایسی سیاست چاہتے ہیں جو تقسیم کے بجائے لوگوں کو متحد کرے، عوام چاہتے ہیں رہنما درپیش مسائل کا عملی حل پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی ملک کے ہر حصے سے بہترین امیدواروں کے میدان میں آنے کی بدولت ممکن ہوئی، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں کامیابی کو پہلے مشکل تصور کیا جاتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امیدواروں کا تعلق مختلف پس منظر اور سیاسی نظریات سے تھا، تاہم وہ مشترکہ اقدار، عوامی خدمت کے جذبے ، اپنے حلقوں اور ریاستوں کے عوام کو اولین ترجیح دینے کے عزم پر متحد تھے۔

سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے پاس ابھی مزید 2 سال اقتدار میں رہنے کا وقت ہے، تبدیلیاں لانے اور مزید نقصان روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

باراک اوباما نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں انتخابی عہدیداروں اور رضاکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے انتخابات کے شفاف اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے اور جمہوریت کے اہم فریضے کی انجام دہی میں کردار ادا کیا۔

خیال رہے چند روز قبل باراک اوباما نے اوہائیو میں ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے دوران خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا بیانیہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا لیکن ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے۔

مزید پڑھیں:مڈٹرم الیکشن: ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل، ٹرمپ نے شکست تسلیم کر لی

باراک اوباما کا کہنا تھا کہ موجودہ صدر نے متعدد غلط فیصلے کیے جن میں سب سے اہم غیر ضروری جنگ شروع کرنے کا فیصلہ تھا۔”یہ لوگ سنجیدہ نہیں ہیں، بالکل بھی سنجیدہ نہیں۔ ان کی غیر سنجیدگی کی قیمت بالآخر آپ کو چکانا پڑتی ہے۔“