عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

Calender Icon بدھ 4 نومبر 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کردی ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ 10 نومبر کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پرسماعت کرے گا، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔

بشریٰ بی بی نے ستمبر میں اپنی سزا معطلی کی درخواست پرجلد سماعت کیلئے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی بینائی مسلسل متاثر ہو رہی ہے اور درخواست پر سماعت میں تاخیر سے ان کی باقی ماندہ بینائی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

بشریٰ بی بی نے درخواست میں کہا تھا کہ سزا معطلی کی درخواست تقریباً 19 ماہ سے زیر التوا ہے، ان کی درخواست کا تعلق صرف سماعت میں تاخیر سے ہے اوراس میں مرکزی اپیل کے میرٹ کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ ایک خاتون قیدی ہونے اور سنگین طبی مسائل کے باعث ان کی درخواست کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جانا چاہیے، درخواست میں اپریل 2026 میں ان کی آنکھوں کی سرجری اور بعدازاں سامنے آنے والی طبی رپورٹس کا بھی حوالہ دیا گیا تھا، جن میں دونوں آنکھوں کے مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے جنوری 2025 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنائی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ دونوں نے برطانیہ سے پاکستان منتقل کی گئی غیر قانونی رقم کی واپسی کے معاملے میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کو ناجائز فائدہ پہنچایا۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اپنی سزاؤں کی معطلی کیلئے ابتدائی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم مئی 2026 میں ہائیکورٹ نے ان کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ سزا کے خلاف مرکزی اپیلیں پہلے ہی سماعت کیلئے مقرر ہیں۔

بعدازاں دونوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، تاہم درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کردی گئی اور معاملہ متعلقہ قانونی دفعات کے تحت وفاقی آئینی عدالت میں بھیج دیا گیا۔

دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے 2 نومبر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی تھی۔ جیل حکام سے کئی ماہ کی مسلسل درخواستوں کے بعد ہونے والی اس ملاقات کے حوالے سے وکیل نے بتایا تھا کہ انہوں نے عمران خان سے 7 ماہ جبکہ بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد ملاقات کی۔

شام ساڑھے 4 بجے شروع ہونے والی ملاقات تقریباً 40 منٹ جاری رہی، جس میں دونوں کی صحت، جیل میں رہائش اور زیر سماعت مقدمات پر گفتگو ہوئی، بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے انہیں اپنی صحت اور جیل میں رہنے کے حالات سے آگاہ کیا اور بعض قانونی معاملات پر نئی ہدایات بھی دیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ملاقات کا دورانیہ محدود ہونے کے باعث جوڑے کے تمام مقدمات اور زیر التوا قانونی معاملات پر تفصیلی گفتگو ممکن نہیں ہو سکی۔

اس سے قبل جون میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ان کے وکلا سے سات روز میں ملاقات کا انتظام کیا جائے تاکہ 190 ملین پاونڈ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی تیاری اور پیروی ممکن ہو سکے۔

سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدرنے عدالت کو بتایا تھا کہ بار بارکوششوں کے باوجود انہیں اپنے موکلوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے باعث وہ اپیلوں کی پیروی کیلئے ضروری ہدایات اور دستخط شدہ اجازت نامے حاصل نہیں کرسکے۔

عدالت نے وکلا تک رسائی نہ دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانونی مشاورت سے محروم رکھنا انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن، 10 روپے کے سکے کی منظوری

ستمبر میں بھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کسی بھی صورت تنہائی میں نہ رکھا جائے اور جیل قواعد کے مطابق ان کی ملاقاتوں کا انتظام کیا جائے۔