امریکی وسط مدتی انتخابات(Mid Term Elections) میں ری پبلکن پارٹی کی شکست کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی الگ سیاسی شناخت مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں، جبکہ ان کے حالیہ بیانات سے 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ممکنہ سیاسی حکمت عملی کی جھلک بھی سامنے آنے لگی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بجائے اپنے ترجیحی سیاسی ایجنڈے کو زیادہ نمایاں کیا۔ انہوں نے اقتصادی قوم پرستی، خارجہ پالیسی میں محتاط رویے اور عوامی تحفظ جیسے معاملات کو اپنی تقریروں کا مرکزی حصہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت نے انتخابی میدان میں ری پبلکن امیدواروں کو بھی متاثر کیا، جس کے بعد وینس نے اپنی سیاسی گفتگو میں صدر کی متنازع پالیسیوں سے فاصلہ رکھنے کی کوشش کی۔ بالخصوص ایران جنگ اور ملک بدری کی پالیسیوں کا ذکر ان کی انتخابی تقاریر میں نسبتاً کم رہا۔
جے ڈی وینس نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے ری پبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کا تجزیہ کیا اور مستقبل کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے ایران جنگ کو ری پبلکنز کی شکست کی اہم وجوہات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے تنازع جلد ختم کرنے پر زور دیا۔
مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی نے 13 سال میں صوبے کا ستیاناس کردیا اسے ٹھیک کررہا ہوں
نائب صدر نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کو درپیش مہنگائی اور اخراجات کے مسائل پر توجہ دے، امریکی خارجہ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر بھی نظرثانی کرے۔
رائٹرز کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب جے ڈی وینس نے عوامی سطح پر واضح طور پر ایران جنگ ختم کرنے کے حق میں مؤقف اختیار کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کا دفاع کرتے رہے ہیں، اگرچہ انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ جنگ کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ری پبلکن امیدواروں کو انتخابی نقصان پہنچایا۔
تاہم وائٹ ہاؤس اور جے ڈی وینس کے قریبی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ نائب صدر کے بیان کو ٹرمپ سے بغاوت یا اختلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کو بھی اس بیان کے بارے میں پہلے سے آگاہی تھی۔













اتوار 8 نومبر 2026 