ماسکو:(ویب ڈیسک) روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کہا ہے کہ روس اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہم یقینی طور پر یوکرین میں اپنے اہداف کو جلد حاصل کرلیں گے ۔
ماسکو میں وزارت دفاع کے اعلیٰ افسران کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوٹن نے کہا کہ روسی افواج کو درپیش خطرات کا مؤثرجواب دیا جا رہا ہے اور زمینی حقائق کے مطابق حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔
2022 میں یوکرین جنگ کا آغاز ہم نے نہیں کیا بلکہ مغرب نے خود اس جنگ کو شروع کیا تھا تاہم معاملات کو سفارت کاری کے ذریعے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ یوکرین میں سیکیورٹی بفر زون کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ روس کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔روسی صدر نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں یوکرینی علاقوں پر طاقت سے قبضے کی دھمکی دیدی۔
یوکرین میں روسی فضائیہ کے تازہ حملے میں 30افراد زخمی ہوگئے۔حملے میں جنوب مشرقی یوکرین میں واقع رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور عمارتوں میں لگی آگ پر کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد قابو پالیا گیا۔یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس 2026 میں ان کے ملک کیساتھ ایک نئی جنگ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ زیلنسکی آ ج برسلز میں یورپی شراکت داروں پر زور دینگے کہ وہ یوکرین کی حمایت کے لیے منجمد روسی اثاثے استعمال کریں۔
یورپی ممالک نے روس کو اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر مشترکہ اقدامات وقت کی ضرورت ہیں تاکہ خطے میں امن اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس پوسٹ کو شیئر کریں












جمعرات 18 دسمبر 2025 