بھارت میں شدید گیس وپیٹرول بحران، عوام مودی کیخلاف سڑکوں پر، احتجاجی مظاہرے

Calender Icon بدھ 25 مارچ 2026

نئی دہلی (ممتاز نیوز) بھارت میں گیس اور ایندھن کے بحران اور عدم فراہمی کے باوجود مودی کے لئے نغمے جاری کرنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ بھارت میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور ایندھن کے بحران نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت کے دوران پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام شہری کے لئے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل بنا دیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی بیانیے میں ترقی اور خوشحالی کے دعوے بدستور جاری ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں جس کے باعث ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گھریلو گیس سلنڈرز کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں جس نے متوسط اور نچلے طبقے کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوامی سطح پر اس صورتحال کے خلاف غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شہری کھل کر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت سے فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر عوامی احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے جہاں لوگوں نے مہنگائی اور ایندھن کی قلت کے خلاف آواز اٹھائی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود حکومتی حامی حلقوں اور بعض میڈیا اداروں کی جانب سے “مودی ہے تو ممکن ہے” جیسے نعرے اور نغمے مسلسل نشر کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور عوامی مشکلات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور میڈیا کے ایک حصے کے درمیان قریبی تعلق نے مسائل کی حقیقی تصویر کو دھندلا دیا ہے۔ ان کے مطابق میڈیا کا بنیادی کردار عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانا ہے، مگر موجودہ حالات میں کئی ادارے حکومتی مؤقف کو تقویت دینے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایندھن کی قیمتوں اور فراہمی کے مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں جس سے نہ صرف معیشت بلکہ سماجی استحکام بھی متاثر ہوگا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں اور اسے عوام دشمن پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اشتہاری مہمات اور نعروں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومت عوامی دباؤ کو سنجیدگی سے لے گی یا پھر بیانیے اور نعرے ہی اصل ترجیح رہیں گے۔ عوام کی نظریں اب آنے والے دنوں پر مرکوز ہیں جہاں یہ طے ہوگا کہ بحران کا حل نکالا جاتا ہے یا نہیں۔