او جی ڈی سی ایل کا سنگِ میل: پاکستان کا پہلا افقی آئل ویل فعال

Calender Icon جمعرات 26 مارچ 2026

اسلام آباد(طارق محمود سمیر)پاکستان کے توانائی شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں او جی ڈی سی ایل نے ملک کا پہلا افقی تیل کا کنواں کامیابی سے فعال کر دیا ہے۔
یہ کنواں سندھ کے شہر حیدرآباد کے علاقے پاساکھی-13 میں واقع ہے، جہاں سے باقاعدہ تیل کی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ کنواں یومیہ تقریباً 460 بیرل تیل فراہم کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کنویں کو 2,966 میٹر گہرائی تک کھودا گیا ہے، جس میں 546 میٹر کا افقی حصہ بھی شامل ہے۔ جدید جیو اسٹیئرنگ اور ESP ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث اس کی پیداوار روایتی کنوؤں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
یہ کامیابی ایس آئی ایف سی کی پالیسی معاونت اور توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد مقامی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا ہے۔
توانائی اور معیشت کے ماہر محمد عارف کے مطابق او جی ڈی سی ایل کی حالیہ کارکردگی، خصوصاً تیل و گیس کی دریافتوں کے حوالے سے، نہایت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر حال ہی میں ایک نئی دریافت بھی کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار میں کمی لا کر معیشت کو بھی سہارا فراہم کرے گا۔