نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق پھیلنے والی غیر ضروری قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حقائق اس سے مختلف ہیں جو بعض حلقوں میں بیان کیے جا رہے ہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے، اور اس عمل میں پاکستان ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں سہولت فراہم کر رہا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے 15 نکات پر ایران غور کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں دیگر برادر اسلامی ممالک بھی متحرک ہیں، جن میں ترکیہ اور مصر شامل ہیں، اور سب کا مقصد یہی ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کر کے امن کی راہ ہموار کی جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے، اور اس مقصد کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار کے مطابق موجودہ پیچیدہ حالات میں جنگ یا کشیدگی کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری میں ہی ہے، اور یہی واحد راستہ ہے جو خطے کو پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ تنازع: اسحاق ڈار کی قیاس آرائیوں کی تردید، مذاکرات کی تصدیق
جمعرات 26 مارچ 2026












