کراچی میں مدرسے کے ایک مہتمم کی جانب سے 12 سالہ بچے پر مبینہ تشدد کے کیس میں عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کر لی ہے، جس کے بعد اس معاملے نے ایک بار پھر بچوں کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے کیس کی سماعت کے دوران ملزم قاری ظہور شاہ کی ضمانت منظور کی۔ سماعت کے موقع پر مدعی مقدمہ کی جانب سے وکیل پنھل ملک منیر احمد نے عدالت میں وکالت نامہ جمع کرایا اور مؤقف پیش کیا۔
مدعی کے مطابق واقعہ 18 مارچ کو پیش آیا جب ان کا بیٹا اذان مغرب کی نماز کے بعد مدرسے سے گھر واپس آیا۔ بچے نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ آئندہ مدرسے نہیں جانا چاہتا۔ جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے انکشاف کیا کہ مدرسے کے مہتمم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور دھمکیاں بھی دیں۔
عدالت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اب ملزم کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس پر اہلِ خانہ شدید خوف اور پریشانی کا شکار ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف بوٹ بیسن تھانے میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے صدمے کا باعث بنا ہے بلکہ اس نے تعلیمی اور مذہبی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش کو اجاگر کیا ہے۔
مدرسے میں بچے پر تشدد کیس: ملزم مہتمم کی ضمانت منظور
جمعرات 26 مارچ 2026












