جے شنکر کے بیانات بھارتی سفارتی ناکامی کے عکاس، پاکستان سفارتی افق پر نمایاں

Calender Icon جمعرات 26 مارچ 2026

نئی دہلی(ویبڈیسک) بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی حالیہ غیر سنجیدہ اور توہین آمیز بیانات نے بھارت کی سفارتی کمزوری اور عالمی تنہائی کو اجاگر کر دیا ہے۔ بدھ کو آل پارٹیز اجلاس میں ان کے ردعمل کو مبصرین نے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش قرار دیا، کیونکہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری ثالثی عمل میں بھارت غیر متعلق تماشائی بن کر رہ گیا، جبکہ پاکستان، ترکی اور مصر فعال اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر ابھرے ہیں۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جے شنکر کی سطحی زبان اور غیر پارلیمانی جملے بھارت کی عالمی اثر و رسوخ میں کمی، ایران تنازع میں مداخلت میں ناکامی، اور ثالثی کے مواقع سے محرومی کا واضح اظہار ہیں۔ عالمی سیاست میں اعتماد اور ثالثی کی قدر ہوتی ہے، اور پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی برادری تسلیم کر رہی ہے۔

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کیا، خلیجی ممالک اور برادر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا، اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس بھارت، اسرائیل کی حمایت اور ایران کے ساتھ غیر تسلسل کی وجہ سے غیر قابل اعتماد ثابت ہوا اور عالمی فیصلوں سے باہر رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جے شنکر کے جارحانہ بیانات بھارت کی سفارتی کمزوری، بڑھتی ہوئی عدم تحفظ، اور ناکام خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ پاکستان عالمی ثالث کے طور پر اعتماد اور اثر و رسوخ کے معیار پر کھڑا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کی ثالثی اور امن کوششوں کو تسلیم کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کی کوششیں پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہیں۔

یہ صورتحال بھارت کی عالمی تنہائی اور ناکامی کے مقابلے میں پاکستان کی مضبوط اور فعال سفارتی پوزیشن کو اجاگر کرتی ہے، اور ظاہر کرتی ہے کہ عالمی بحران میں اعتماد اور ثالثی کی قدر طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔