اسلام آباد(طارق محمود سمیر)بھارت کا ایک بڑا حصہ میڈیا حالیہ برسوں میں غیر جانبدار صحافت سے ہٹ کر سنسنی خیزی، شور شرابے اور یکطرفہ بیانیے کو فروغ دینے کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ میڈیا نہ صرف گمراہ کن دعوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے بلکہ معاشرتی تقسیم اور نفرت انگیزی کو بھی ہوا دیتا ہے۔
امریکی تنظیم Genocide Watch نے اپنی ایک رپورٹ میں بھارتی میڈیا کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق بھارت میں میڈیا کا ایک حصہ حکمران جماعت Bharatiya Janata Party (بی جے پی) کے زیرِ اثر آ چکا ہے، جس کے باعث غیر جانبداری متاثر ہوئی ہے اور بعض اہم حقائق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بی جے پی کی بعض پالیسیوں اور بیانیوں کو بار بار دہرا کر معاشرے میں تقسیم کو گہرا کیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں عالمی ادارے Reporters Without Borders نے بھی بھارت میں صحافتی آزادی کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق صحافیوں کو خاص طور پر حساس موضوعات، جیسے اقلیتوں کے مسائل یا مذہبی کشیدگی، پر رپورٹنگ کرتے ہوئے دباؤ، قانونی کارروائیوں اور بعض اوقات حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ صحافت نے عوامی رائے پر گہرا اثر ڈالا ہے، جہاں بعض ناظرین بغیر تصدیق کے معلومات کو سچ ماننے لگے ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل سنسنی خیزی اور یکطرفہ بیانیہ نہ صرف عوامی شعور کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک جب میڈیا ریاستی یا نظریاتی اثر میں آ جائے تو اس کا بنیادی فریضہ—یعنی حقائق کی غیر جانبدارانہ فراہمی—کمزور پڑ جاتا ہے۔ بھارت کے حوالے سے سامنے آنے والی یہ آراء اسی بڑے سوال کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جدید دور میں میڈیا کی آزادی، ذمہ داری اور سچائی کو کیسے برقرار رکھا جائے۔
مجموعی طور پر، عالمی اداروں اور ماہرین کی رپورٹس اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ میڈیا کا کردار جتنا طاقتور ہوتا ہے، اتنی ہی زیادہ اس کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے—اور یہی توازن قائم رکھنا کسی بھی معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔












جمعہ 27 مارچ 2026 