اسلام آباد(نیوزڈیسک) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو شناختی کارڈ عارضی طور پر بلاک کرنے کے اختیارات دینے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔
منظور کیے گئے بل کے تحت نادرا کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ 60 روز تک کے لیے بلاک کر سکے، اگر اسے شبہ ہو کہ اس دستاویز کا غلط استعمال ہو رہا ہے یا قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق اس بل کا مسودہ اب حتمی منظوری کے لیے سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ پاکستان کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ ایک انتہائی حساس اور اہم قومی دستاویز ہے، جس کا غلط استعمال نہ صرف سیکیورٹی بلکہ معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
وزارت داخلہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ واضح قانونی اختیار نہ ہونے کے باعث نادرا کو کئی عملی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بعض عناصر قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں اور ادارے کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔
اس ترمیم کے ذریعے حکومت کا مقصد نادرا کو مؤثر اختیارات دینا ہے تاکہ وہ بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایسے معاملات کو کنٹرول کر سکے اور نظام کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
نادرا کو شناختی کارڈ 60 روز کیلئے بلاک کرنیکا اختیار، سینیٹ سے بل منظور
جمعہ 27 مارچ 2026 مزید خبریں
تازہ ترین
کوئٹہ سے پشاور کیلئے ٹرین سروس 2 روز بعد بحال
1 گھنٹے قبل
کراچی میں خام تیل کی بڑی پائپ لائن لیک ہوگئی
3 گھنٹے قبل















