نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ ماہرین اس کی ایک بڑی وجہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی کمزور سفارتکاری اور غیر مؤثر پالیسیوں کو قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایندھن لے کر آنے والے کم از کم 10 غیر ملکی پرچم بردار جہاز خلیج فارس میں پھنس چکے ہیں، جس سے سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی پر مشتمل 18 بھارتی پرچم والے جہاز اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں محصور ہیں، جس کے باعث بھارت کو ایندھن کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق جنگ سے متاثرہ صورتحال صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہی بلکہ اس سے ملحقہ سمندری علاقے بھی ہائی رسک زون قرار دیے جا چکے ہیں۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف برادر ممالک کے جہاز باہمی ہم آہنگی کے بعد ہی اس راستے سے گزر سکتے ہیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث اس اہم تجارتی روٹ کی بندش نے بھارت میں ایندھن کی قلت کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نریندر مودی کی اسرائیل نواز پالیسی اور کمزور حکمتِ عملی نے بھارت کو ایک سنگین توانائی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔












بدھ 1 اپریل 2026 