ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا وفد مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان نہیں جائے گا۔ جس کے فوراً بعد پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر(Asim Munir) اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں رابطہ ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔
انہوں نے تہران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کر سکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔
Iran Has No Enmity With Regional Countries, Says Spokesman
Esmaeil Baqaei said Iran has no enmity with the countries of the region and its actions over the past 40 days have been solely legitimate defense against military aggressions by the United States and the Zionist regime. pic.twitter.com/59ppO6FRgh
— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) April 20, 2026
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی انتظامیہ کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اپنے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا اور وہ اب بھی وہی غلطیاں دہرا رہا ہے جو پہلے کی گئی تھیں۔
ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف ایرانی اثاثوں اور بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کر کے کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔
جس کے بعد برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر میں رابطے کی خبر دی۔
رائٹرز کے مطابق، فیلڈ مارشل نے امریکی صدر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جس پر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
مزیدپڑھیں:ایسی کارکردگی پر قومی ٹیم میں میری جگہ نہیں بنتی، رضوان کی ریٹائرمنٹ سے متعلق وضاحت
واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ بیس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی سی -17 گلوب ماسٹر طیارہ نور خان ایئر بیس پر اترا ہے، جس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ امریکی وفد کی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور سیکیورٹی ٹیم لے کر پہنچا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا۔
حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے دو بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔
تاہم، ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے مبہم اشارے مل رہے تھے۔ خاص طور پر امریکا کی جانب سے خلیج عمان میں ایرانی بحری جہاز پر قبضے کے بعد ایران نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے خبر دی تھی کہ حکومت فی الحال ان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، اور اس فیصلے کی بنیادی وجہ ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل امریکی ناکہ بندی ہے جو تہران کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن ’آئی آر آئی بی‘ نے اتوار کے روز رپورٹ دی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے۔
اس سے قبل ایران کی خبر رساں ایجنسیوں ’فارس‘ اور ’تسنیم‘ نے بتایا تھا کہ مذاکرات کے لیے مجموعی ماحول کو بہت زیادہ مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تاہم، اسلام آباد میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تیاریوں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کا حصہ بن سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اس حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ تو کیا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کریں گے یا دوسرے فریق کے ہر رویے کو قبول کریں گے۔
ابراہیم عزیزی، جو پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی سرخ لکیریں یعنی ریڈ لائنز طے کر لی ہیں جن کا احترام ہر صورت میں ضروری ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایرانی ٹیم اسلام آباد جائے گی، تو انہوں نے اس کا انحصار مثبت اشاروں پر چھوڑتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے اصول سے کبھی نہیں ڈرے، آج یا کل مزید جائزے کے بعد ہماری شرکت کا امکان ہے، بشرطیکہ امریکی ٹیم اور ان کی جانب سے ملنے والے پیغامات سے ہمیں کوئی مثبت اشارہ ملے۔
ایران نے ان مذاکرات کو جنگ کا ہی تسلسل قرار دیا ہے۔ ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ کا ہی ایک حصہ سمجھتے ہیں اور اس میں ہمیں میدانِ جنگ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان مذاکرات سے ایسی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں جو ہمارے میدانِ جنگ کی کامیابیوں کو برقرار رکھ سکیں، تو یہ ہمارے لیے ایک موقع ہے، لیکن اگر امریکیوں کا مقصد اپنی دھونس اور دھاندلی کے ذریعے حد سے زیادہ مطالبات منوانا ہے، تو پھر صورتحال مختلف ہوگی۔
ایران اب بھی لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کے مطالبات پر سختی سے قائم ہے۔
ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ لبنان کا مسئلہ ہمارے لیے بہت اہم ہے اور اثاثوں کی واگزاری ہماری اولین شرائط میں شامل ہے۔
انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسی کارروائیاں کی گئیں جو مزاحمتی محاذ کے مفادات کے خلاف ہوں یا اگر گزشتہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے ایران کی شرائط قبول نہیں کیں، اور اس کا اثر براہِ راست مذاکرات کے مستقبل پر پڑے گا۔
اس تمام تر تناؤ کے باوجود دنیا بھر کی نظریں اب پاکستان پر لگی ہیں کہ آیا یہ سفارتی کوششیں خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا پائیں گی یا نہیں۔












پیر 20 اپریل 2026 