وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz sharif) نے کہاہےکہ پی تھری اے کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ(Public private partnership) کے نظام کو مزید شفاف اور تیز بنا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، اجلاس کو خطے اور عالمی سطح پر مختلف ممالک میں رائج پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈلز کا موازنہ پیش کیا گیا. اجلاس کو مجوزہ نئے نظام کے خدوخال پر بھی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت پی تھری اے کی نگرانی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور نجکاری ڈویژن کریں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ پی تھری اے کی کارکردگی کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کیلئے یہ ادارہ نجکاری ڈویژن کے تحت کام کرے گا ۔
وزیرِ اعظم نے ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی (P3A) اور اس سے متعلقہ نظام کو مزید مربوط بنانے کی اصولی منظوری دی ۔
مزیدپڑھیں:بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کاآپریشن سندور میں بدترین شکست کااعتراف
وزیرِ اعظم نے ہدایت جاری کی کہ نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کی جائے اور پبلک پرائیویٹ پارٹرنرشپ کی ذریعے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی استعداد میں بہتری لائی جائے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی جانچنے (KPIs) کا حصہ بنایا جائے ۔
وزیراعظم نے کہاکہ پی تھری اے کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید شفاف اور تیز بنا رہے ہیں ۔
اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔












منگل 21 اپریل 2026 