پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا (Indian Media)کی رپورٹنگ ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان کے خلاف الزامات اور جارحانہ بیانیہ تیزی سے پھیلایا گیا۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے انتہائی عجلت میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا، حتیٰ کہ محض چند منٹوں میں ایف آئی آر درج کر کے پاکستان کو نامزد بھی کر دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق جائے وقوعہ کی جغرافیائی پیچیدگیوں اور زمینی حقائق کو بھی نظر انداز کیا گیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی چینلز نے بغیر تصدیق کے واقعے کو منظم دہشتگردی قرار دے کر نہ صرف قبل از وقت نتائج اخذ کیے بلکہ اس سے مذہبی جذبات کو بھی ہوا دی گئی۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر پاکستان مخالف بیانیہ منظم انداز میں سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ پہلے سے تیار شدہ حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:بھارت کی مکاری کھل کے سامنے آچکی ہے، عطا تارڑ
بین الاقوامی میڈیا کے بعض حلقوں نے بھی اس رپورٹنگ کو غیر ذمہ دارانہ اور حقائق سے دور قرار دیا ہے، جبکہ بھارت کے اندر سے بھی اس طرزِ صحافت پر تنقید سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی رپورٹنگ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف بیانیہ تشکیل دیا گیا، اور موجودہ صورتحال کو اسی تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے حساس معاملات میں ذمہ دارانہ صحافت اور مصدقہ معلومات کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو نقصان نہ پہنچے۔












بدھ 22 اپریل 2026 