اسلام آباد میں بدھ کے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں، یعنی الیکٹرک وہیکلز (EVs)، کے فروغ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت کی جانب سے جاری اقدامات کو مزید تیز کیا جائے تاکہ اس شعبے میں ترقی کی رفتار بڑھ سکے۔
وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی حالات اور مستقبل کی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ایندھن کی درآمد پر اٹھنے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔
اجلاس میں قومی ای وی پالیسی کے تحت کم آمدنی والے افراد کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی سبسڈی کو شفاف بنانے کی ہدایت کی گئی، ساتھ ہی اس اسکیم کے نفاذ کو مزید تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی تیاری کے لیے درجنوں مینوفیکچرنگ سرٹیفیکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ الیکٹرک کاروں کی تیاری کے لیے بھی پیش رفت جاری ہے۔ اسی طرح چارجنگ اسٹیشنز کے قیام میں بھی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور اس حوالے سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ملک کی تقریباً 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس سے اربوں ڈالر کے ایندھن کی بچت متوقع ہے۔ سرکاری ملازمین، خاص طور پر گریڈ 16 تک کے افراد کے لیے آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی تاکہ اس تبدیلی کو عملی شکل دی جا سکے۔
مزید پڑھیں:اساتذہ کیلئے ای بائیک اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ الیکٹرک وہیکلز کا فروغ پاکستان کے لیے معاشی اور ماحولیاتی دونوں لحاظ سے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔












بدھ 22 اپریل 2026 