امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں منعقدہ کورسپونڈینٹ ڈنر میں فائرنگ کرنے والے ملزم کول ٹوماس ایلن(Cole Thomas Allen) نے ہفتے کی رات فائرنگ سے تقریباً 10 منٹ قبل اپنے اہلِ خانہ کو ایک پیغام ارسال کیا تھا۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق اس دستاویز میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
ملزم کا اہلِ خانہ کو بھیجا گیا پیغام
اہلِ خانہ کو بھیجے گئے پیغام میں گرفتار ملزم نے لکھا تھا کہ دوسرا رخ تب پیش کیا جاتا ہے جب آپ مظلوم ہوں، لیکن میں وہ شخص نہیں جسے حراستی کیمپ میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، نہ وہ ماہی گیر جسے بغیر مقدمے کے قتل کیا گیا۔
اس نے لکھا ہے کہ میں نہ کوئی اسکول کا بچہ ہوں جو بم دھماکے میں مارا گیا، نہ بھوک سے مرنے والا بچہ، نہ وہ لڑکی جو اس انتظامیہ کے جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوئی، جب کسی اور پر ظلم ہو اور آپ خاموش رہیں تو یہ مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کا ساتھ دینا ہے، میں اب اس بات کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں ہوں کہ ایک پیڈوفائل، ریپسٹ اور غدار اپنے جرائم سے میرے ہاتھوں کو آلودہ کرے۔
ملزم نے پولیس کو بیان میں سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے
ملزم نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں سیکیورٹی پر سوالات اُٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ہیلٹن میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں، اگر کوئی ایرانی ایجنٹ ہوتا تو اس سے بھی زیادہ مہلک ہتھیار اندر لا سکتا تھا، ہوٹل میں داخل ہوتے ہی جو چیز نمایاں تھی وہ حد سے زیادہ اعتماد تھا، میں کئی ہتھیار لے کر اندر آیا اور کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ میں خطرہ ہو سکتا ہوں۔
مزیدپڑھیں:اسرائیلی وزیراعظم کو بڑا دھچکا، دو سابق وزرائے اعظم کا نئے انتخابی اتحاد کا اعلان
کول ٹوماس ایلن کے مطابق سیکیورٹی زیادہ تر باہر مظاہرین اور آنے والوں پر مرکوز تھی، کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کوئی ایک دن پہلے آ کر ٹھہر جائے تو کیا ہو گا، یہ نااہلی حیران کن ہے، اگر میں امریکی شہری کے بجائے ایرانی ایجنٹ ہوتا تو میں یہاں ’ما ڈیوس‘ (Ma Deuce) جیسا بھاری ہتھیار بھی لے آتا تو کسی کو خبر تک نہ ہوتی۔
’ما ڈیوس‘ کیا ہے؟
M2 براؤننگ 0.50 کیلیبر کی بھاری مشین گن ہے جسے عرفِ عام میں ’ما ڈیوس‘ کہا جاتا ہے، اسے امریکی فوج کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک استعمال ہونے والا ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق کول ٹوماس ایلن نے کیپ ٹیکٹیکل فائر آرم سے 2 ہینڈ گنز اور 1 شاٹ گن خریدی تھیں، جو اس نے اپنے والدین کے گھر میں رکھیں، جبکہ وہ باقاعدگی سے شوٹنگ رینج میں مشق بھی کرتا تھا۔
واضح رہے کہ واقعے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کا ایران کے ساتھ جاری کشیدگی سے براہِ راست تعلق ممکن نہیں اور یہ واقعہ میرے ایران سے متعلق پالیسی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو گا۔
وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ واقعہ مجھے ایران میں جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتا، مجھے نہیں لگتا کہ اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے، کم از کم دستیاب معلومات کی بنیاد پر ایسا نہیں لگتا، تاہم کچھ کہا نہیں جا سکتا اور اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ واقعہ ایران سے جڑا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کے پاس گرفتاری سے قبل متعدد ہتھیار موجود تھے، تفتیش کار حملہ آور کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں۔












پیر 27 اپریل 2026 