پن بجلی میں اضافے سے لوڈشیڈنگ دو گھنٹے سے تجاوز نہ کر سکی

Calender Icon منگل 28 اپریل 2026

ترجمان پاور ڈویژن(Power Division) نے 27 اپریل کی رات پیک اوقات میں بجلی کی صورتحال سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باوجود صورتحال کو مؤثر انداز میں manage کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں اضافے کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں بہتری آئی، جس کے نتیجے میں گزشتہ رات پیک ٹائم کے دوران مجموعی ہائیڈرو پاور پیداوار 6000 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جبکہ ملک میں پن بجلی کی مجموعی پیداواری capacity 11500 میگاواٹ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پن بجلی کی بڑھتی پیداوار اور ملک کے جنوبی حصے سے نیشنل گرڈ میں استحکام کے باعث اضافی بجلی کو سسٹم میں شامل کرنا آسان ہوا، جس کے نتیجے میں مزید 100 میگاواٹ بجلی کو آن لائن لایا گیا، جبکہ جنوبی علاقوں سے مجموعی طور پر 500 میگاواٹ بجلی کی ترسیل ممکن بنائی گئی۔

ترجمان پاور ڈویژن نے بتایا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر تقسیم کار کمپنیوں نے پیک اوقات میں ایک سے دو گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کیا، تاہم پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باعث لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دو گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونے دیا گیا۔

مزیدپڑھیں:ٹرمپ ایران کی جنگ کے خاتمہ کی نئی تجویز سے ناخوش ہیں: امریکی عہدیدار کا دعویٰ

بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ ملک میں زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر اکنامک لوڈ مینجمنٹ پالیسی کے تحت بجلی کی بندش کی جا رہی ہے، جس کا پیک اوقات میں ہونے والی لوڈ مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان کے مطابق عالمی حالات کے باعث ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے تقریباً 5000 میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہو رہی، تاہم امید ظاہر کی گئی ہے کہ ایل این جی کی فراہمی اور پانی کے اخراج میں مزید اضافے سے رات کے اوقات میں بجلی کا شارٹ فال مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔