بیمار ہونے کے باوجود ملازمین کام پر کیوں آتے ہیں؟

Calender Icon اتوار 14 جون 2026

ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کئی اداروں میں حاضری سے متعلق سخت پالیسیاں ملازمین کو بیماری کی حالت میں بھی کام پر آنے پر مجبور کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف ملازمین(Employees) کی صحت(Health) بلکہ کام کی کارکردگی اور عوامی صحت کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ تحقیق ہارورڈ کینیڈی سکول، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے، سٹونی بروک یونیورسٹی اور وین سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

امریکی جامعات کی تحقیق کے مطابق جن ملازمین کو حاضری کی بنیاد پر جرمانہ نما پوائنٹس یا تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بیماری کے باوجود کام پر آنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں حتیٰ کہ اگر انہیں باقاعدہ تنخواہ کے ساتھ بیماری کی چھٹی کی سہولت بھی حاصل ہو۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے ادارے اٹینڈس پوائنٹس سسٹم استعمال کرتے ہیں جس کے تحت غیرحاضری، تاخیر سے آنے یا وقت سے پہلے کام چھوڑنے پر ملازمین کو منفی پوائنٹس دیے جاتے ہیں، بعض کمپنیوں میں زیادہ پوائنٹس جمع ہونے کی صورت میں ملازمین کو تنبیہ، تادیبی کارروائی یا ملازمت سے برخاستگی جیسے نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

محققین کے مطابق سروے میں شامل قریباً نصف ملازمین ایسے نظام کے تحت کام کر رہے تھے۔

مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ترکیہ کو شکست دے دی

نتائج سے معلوم ہوا کہ صرف اس نظام کے تحت کام کرنا ہی ملازمین کے بیمار ہونے کے باوجود دفتر آنے کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے، اگر کسی ملازم کو پہلے ہی غیرحاضری پر پوائنٹس مل چکے ہوں یا کسی قسم کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو تو اس کے بیمار ہونے کے باوجود کام پر آنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر بیماری کے باوجود دفتر آنا ذمہ داری اور لگن کی علامت محسوس ہو سکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ رویہ کام کی مجموعی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے، بیماری کی حالت میں کام کرنے سے صحت یابی کا عمل سست ہو سکتا ہے اور بیماری دیگر ساتھی ملازمین میں بھی پھیل سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق بہت سے ملازمین صرف اس خوف سے کام پر آتے ہیں کہ کہیں انہیں غیرحاضری کی سزا یا منفی پوائنٹس کا سامنا نہ کرنا پڑے، تادیبی کارروائی کا خوف بعض اوقات بیماری کی چھٹی کے فوائد پر بھی غالب آ جاتا ہے جس کے نتیجے میں ملازمین خود کو ایک مشکل صورت حال میں محسوس کرتے ہیں۔

تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تنخواہ کے ساتھ بیماری کی چھٹی کی سہولت اکیلے اس مسئلے کا حل ثابت نہیں ہوئی، نتائج سے معلوم ہوا کہ جن ملازمین کو بیماری کی چھٹی کا قانونی تحفظ حاصل تھا، وہ بھی حاضری کے سخت نظام کی موجودگی میں بیماری کے باوجود کام پر آنے کا رجحان رکھتے تھے۔

محققین کے مطابق اگر ادارے واقعی صحت مند اور فلاحی کام کی جگہیں بنانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف ملازمین کی بہبود کے پروگراموں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی حاضری کی پالیسیوں کا بھی ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں کو افرادی قوت کی دستیابی اور ملازمین کی صحت کے درمیان متوازن پالیسی اپنانا ہوگی، ایسا ماحول جہاں ملازمین بیماری کی صورت میں بلاخوف و خطر آرام کر سکیں، نہ صرف ان کی صحت کے لیے بہتر ثابت ہوگا بلکہ طویل مدت میں اداروں کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کرے گا۔