پاکستان کے بحری دفاع میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاک بحریہ(Pakistan Navy) کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز چین میں باقاعدہ طور پر کمیشن کر دی گئی۔ اس تاریخی تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداسدری (Asif Ali Zardari )بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف(Admiral Naveed Ashraf) بھی اس موقع پر موجود تھے۔
صدر مملکت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبدوز “ہنگور” کی کمیشننگ پاک بحریہ کی جدیدیت اور دفاعی صلاحیت میں اضافے کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع، بحری مفادات کے تحفظ اور اقتصادی راہداریوں کی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ عالمی سطح پر اہم بحری راستوں میں کسی بھی قسم کا تعطل تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہنگور کلاس آبدوزیں بحیرہ عرب میں اہم سمندری گزرگاہوں کی حفاظت، جارحیت کے تدارک اور بحری دفاع کو مزید مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے 1971 کی پاک بھارت جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں “ہنگور” نامی آبدوز نے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا تھا، جب اس نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی بحری جہاز کو تباہ کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ نئی ہنگور کلاس آبدوزیں اسی روایت کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھائیں گی۔
ماہرین کے مطابق ہنگور کلاس آبدوزیں جدید ترین ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن ٹیکنالوجی، جدید سونار سسٹمز، اسٹیلتھ ڈیزائن اور طویل عرصے تک زیرِ آب آپریشنز کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو انہیں خطے میں ایک مؤثر دفاعی اثاثہ بناتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:ایرانی تقریباً 500 ملین ڈالرز کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے: امریکی وزیرِ خزانہ
تقریب کے بعد وزیراعظم پاکستان، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت نے اس کامیابی پر قوم اور پاک بحریہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط اور دیرینہ دوستی کا ایک نیا باب قرار دیا۔












جمعرات 30 اپریل 2026 