خیبر پختونخوا (Khyber Pakhtunkhwa) حکومت نے روسی فاختہ کے شکار کی مشروط اجازت دے دی ہے، جو 31 مئی 2026 تک برقرار رہے گی۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق یہ فیصلہ قدرتی توازن کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ پرندوں کی آبادی کو نقصان پہنچائے بغیر ایک منظم اور ذمہ دارانہ شکار کو ممکن بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اجازت Khyber Pakhtunkhwa Wildlife and Biodiversity Act 2015 کے تحت دی گئی ہے، جس کا مقصد جنگلی حیات کا تحفظ اور ماحولیات کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق شکار صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دنوں میں کیا جا سکے گا، اور اس کے لیے باقاعدہ اسمال گیم شوٹنگ لائسنس ہونا لازمی ہوگا۔ یہ قانون فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے اور مقررہ تاریخ تک لاگو رہے گا۔
شکار کے لیے بھی واضح حدود مقرر کی گئی ہیں۔ ہر شکاری ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 8 روسی فاختہ کا شکار کر سکتا ہے۔ اس حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں فی پرندہ 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ مزید قانونی کارروائی بھی ممکن ہے۔
‘چیٹ جی پی ٹی’ سے کی گئی گفتگو قتل کیس میں اہم ثبوت بن گئیمزید پڑھیں:
اس کے علاوہ، سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے کے بعد شکار مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کی ٹیمیں مسلسل نگرانی کریں گی تاکہ پرندوں کی تعداد اور ماحول پر اس کے اثرات کو قابو میں رکھا جا سکے، اور اگر ضرورت پڑی تو شکار پر فوری پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔
محکمہ کے ترجمان لطیف الرحمان کے مطابق حکومت ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جن میں جنگلات کی بحالی، جنگلی حیات کا تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی شامل ہے۔ روسی فاختہ کے شکار سے متعلق یہ ضابطہ بھی اسی کوشش کا حصہ ہے، جس کا مقصد فطرت کے ساتھ توازن قائم رکھتے ہوئے پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔












ہفتہ 2 مئی 2026 