رئیل اسٹیٹ کے فروغ کے لیے حکومت کا عزم، نئی اصلاحات کا عندیہ

Calender Icon ہفتہ 2 مئی 2026

حکومت نے ملک میں رئیل اسٹیٹ (Real estate) کے شعبے کو مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نئی اصلاحات متعارف کرانے کا اشارہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں پالیسی سازی کو زیادہ مؤثر اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر Muhammad Aurangzeb نے کاروباری برادری، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے عمل میں مسلسل مشاورت نہایت ضروری ہے تاکہ فیصلے معیشت کے وسیع تر مفاد میں ہوں۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ گفتگو رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (REITs) کے فروغ اور سرمایہ منڈی کی ترقی کے لیے قائم ایک فوکس گروپ کے ورچوئل اجلاس میں کی گئی، جس کی صدارت وزیر خزانہ نے کی۔ اجلاس میں معروف کاروباری شخصیات Arif Habib، Nadeem Riaz اور Ali Jameel سمیت دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو زیادہ منظم، شفاف اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ خاص طور پر REITs کے نظام کو بہتر بنانے، ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات لانے اور طریقہ کار کو آسان بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
’’آنکھیں بند کرو، رقم ڈبل‘‘ شہری نے ایک لاکھ روپے دیدیے، پھر کیا ہوا؟مزید پڑھیں؛
شرکاء نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں REIT مارکیٹ نے ابتدائی ترقی ضرور کی ہے، تاہم اس میں مزید وسعت کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ بہتر پالیسی اقدامات، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے سے اس صلاحیت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ REITs رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کو ایک شفاف اور منظم طریقے سے معیشت کے پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملتی ہے بلکہ تعمیرات اور ترقیاتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔

اجلاس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے، آگاہی مہمات چلانے اور ثانوی مارکیٹ کے مؤثر نظام کے قیام پر بھی زور دیا گیا تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو پائیدار بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے REIT فریم ورک کو عالمی بہترین روایات کے مطابق ڈھالا جائے، تاہم اسے سادہ اور قابلِ عمل رکھا جائے۔

وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں، بشمول Securities and Exchange Commission of Pakistan، ٹیکس پالیسی آفس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی کہ وہ ٹیکسیشن، ریگولیٹری امور اور مارکیٹ کی ترقی سے متعلق تفصیلی تجاویز تیار کریں۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت ایک شفاف، مستحکم اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرے گی، جو سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔