ملکی تاریخ کا میگا ہاؤسنگ فراڈ، ICHSکے 6 ہزار پلاٹس، 42 ہزار فائلیں فروخت,7ملزمان گرفتار

Calender Icon جمعہ 8 مئی 2026

اسلام آباد ہاؤسنگ سوسائٹی(ICHS) کےسابق عہدیداران اور مبینہ سہولت کاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے تقریباً 42 ہزار فائلیں جاری کیں جس سے دستیاب زمین اور کی گئیں الاٹمنٹس کے درمیان ایک بڑا فرق پیدا ہو گیا
آئی سی ایچ ایس اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والوں نے ایک ایسے فراڈ کا انکشاف کیا ہے جسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ہاؤسنگ فراڈز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔36ہزار فائلیں غیر قانونی طور پر جاری کی گئیں حالانکہ سوسائٹی کے پاس اتنی زمین ہی نہیں تھی۔

نیب راولپنڈی اور نیب اسلام آباد کی تحقیقات سے آگاہ ذرائع نےڈیلی ممتازاور ایم نیوز چینل کو بتایا کہ سوسائٹی کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور دستیاب لینڈ بینک کے مطابق صرف تقریباً 6 ہزار فائلیں جاری ہوسکتی تھیں تاہم سابق عہدیداران اور مبینہ سہولت کاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے تقریباً 42 ہزار فائلیں جاری کیں جس سے دستیاب زمین اور کی گئیں الاٹمنٹس کے درمیان ایک بڑا فرق پیدا ہو گیا۔

تحقیقات کے مطابق اب تک تقریباً 36 ہزار فائلوں کو غیر قانونی، زائد یا دستیاب زمین کے بغیر قرار دیا گیا ہے جس سے کئی برسوں پر محیط مبینہ فراڈ، بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

مزید تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ہزاروں فائلوں کی مکمل ادائیگی اور الاٹمنٹ کا ریکارڈ یا تو موجود نہیں یا پھر دستیاب ہی نہیں۔

حکام کے مطابق، متعدد شہریوں کو مبینہ طور پر ایسی زمین کے بدلے پلاٹ فائلیں فروخت کی گئیں جو یا تو موجود ہی نہیں تھی، یا اس کی قانونی منظوری نہیں تھی، یا پھر کبھی درست طور پر دستاویزی شکل میں نہیں لائی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سوسائٹی کے لینڈ بینک اور جاری کردہ فائلوں کی تعداد میں بڑا فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جعلی، ڈپلیکیٹ اور زائد فائلوں کو منظم انداز میں فروخت کرکے عوام سے اربوں روپے بٹورے گئے۔

اب تک تحقیقات میں 16 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہو چکا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ریکارڈ اور مالی لین دین کی مزید تحقیقات ہو رہی ہیں، اس رقم میں بڑا اور واضح اضافہ سامنے آ سکتا ہے۔

نیب حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس کیس میں سابق مینجمنٹ کمیٹی اور ایک لینڈ ڈیلنگ کمپنی سے تعلق رکھنے والے 7؍ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، گرفتار افراد میں سابق سیکرٹری جنرل مہدی خان شاکر، سابق خزانچی ملک محمد نواز، سابق ایگزیکٹو ممبر محمد ارشد اور لینڈ اسٹاک ڈیلنگ پوائنٹ کمپنی سے وابستہ چار افراد، منیر اختر، علی محمود، یامین ملک اور غلام جیلانی شامل ہیں۔

دریں اثناء احتساب عدالت اسلام آباد نے مزید تحقیقات، دستاویزی شواہد کی بازیابی، مالی لین دین کی کھوج اور اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث دیگر سہولت کاروں کی نشاندہی کیلئے نیب کو ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

تحقیقات سے آگاہ حکام کے مطابق یہ کیس مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ تفتیشی ٹیمیں سوسائٹی کی انتظامیہ، زمین کے انتظام اور مالیاتی معاملات سے جڑے دیگر افراد کے کردار کا جائزہ لے رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:تحقیقات سے آگاہ حکام کے مطابق یہ کیس مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے

مختلف ٹیمیں جرم کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہیں تاکہ انکوائری جلد مکمل ہوسکے، توقع ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے پر مزید گرفتاریاں ہوں گی۔