جاپان میں ریچھوں سے بچاؤ کے لیے ’روبوٹ بھیڑیے‘ کی مانگ میں زبردست اضافہ

Calender Icon جمعرات 14 مئی 2026

جاپان میں جنگلی ریچھوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد خوفناک شکل والے ’’روبوٹ بھیڑیے‘‘( robot wolves ) کی مانگ میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مقامی کمپنی کی جانب سے تیار کیے جانے والے یہ مشینی بھیڑیے جنگلی جانوروں کو کھیتوں، آبادیوں اور کام کی جگہوں سے دور رکھنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

مونسٹر وولف‘ کیا ہے؟

“مونسٹر وولف” نامی یہ روبوٹ ایک اینیمیٹرونک ڈراؤنا مجسمہ ہے جس کی آنکھیں سرخ روشنی سے چمکتی ہیں جبکہ یہ خوفناک آوازوں، چیخوں اور بھیڑیے جیسی غرّاہٹیں نکالتا ہے۔ اس کا مقصد جنگلی جانوروں، خاص طور پر ریچھوں، کو خوفزدہ کرکے انسانی آبادی سے دور رکھنا ہے۔

یہ روبوٹ اوہٹا سیکئی نامی کمپنی تیار کر رہی ہے، جو جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو میں قائم ہے۔

کمپنی آرڈرز پورے کرنے میں ناکام

کمپنی کے صدر یوجی اوہٹا کے مطابق اس سال اب تک تقریباً 50 آرڈرز موصول ہو چکے ہیں، جو عام طور پر پورے سال میں ملنے والے آرڈرز کے برابر ہیں۔

مزیدپڑھیں:ٹیکساس میں نیٹ فلکس کے خلاف بڑا مقدمہ، صارفین کی جاسوسی اور بچوں کا ڈیٹا جمع کرنے کا الزام

انہوں نے بتایا کہ ہم یہ روبوٹس ہاتھ سے تیار کرتے ہیں، اس لیے اتنی تیزی سے پیداوار ممکن نہیں۔ اب ہم صارفین سے دو سے تین ماہ انتظار کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق لوگوں میں ریچھوں سے تحفظ اور فصلوں کو جنگلی جانوروں سے بچانے کے حوالے سے شعور میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ “مونسٹر وولف” کی مؤثریت پر اعتماد بھی بڑھا ہے۔

کسان، گالف کورسز اور تعمیراتی کارکن بڑے خریدار

رپورٹ کے مطابق ان روبوٹس کے زیادہ تر خریدار کسان، گالف کورس چلانے والے افراد اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے تعمیراتی کارکن ہیں۔

جاپان میں حالیہ برسوں کے دوران جنگلی ریچھوں کی آبادی انسانی آبادیوں کے قریب آنے لگی ہے، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں خوف اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔

جاپان میں ریچھوں کے حملوں نے ریکارڈ توڑ دیے

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025-2026 کے دوران ریچھوں کے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جو ماضی کے تمام ریکارڈز سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی عرصے میں پورے ملک میں ریچھ دیکھے جانے کے 50 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جو دو سال قبل قائم ہونے والے ریکارڈ سے بھی دگنے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ریچھ گھروں میں داخل ہوتے، اسکولوں کے قریب گھومتے اور سپر مارکیٹوں و گرم پانی کے تفریحی مراکز میں تباہی مچاتے بھی دیکھے گئے۔

ہزاروں ریچھ مار دیے گئے

حکام کے مطابق گزشتہ سال 14 ہزار 601 ریچھ پکڑے جانے کے بعد ہلاک کیے گئے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تعداد ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق رواں برس اپریل میں بھی شمالی علاقوں میں ریچھوں کی موجودگی کے واقعات گزشتہ سال کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ریکارڈ کیے گئے، کیونکہ جانور سردیوں کی نیند ختم ہونے کے بعد دوبارہ باہر نکل آئے ہیں۔