ٹیکساس میں نیٹ فلکس کے خلاف بڑا مقدمہ، صارفین کی جاسوسی اور بچوں کا ڈیٹا جمع کرنے کا الزام

Calender Icon جمعرات 14 مئی 2026

امریکی ریاست ٹیکساس(Texas) میں معروف اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس(Netflix) کے خلاف ایک بڑا مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے، جس میں کمپنی پر صارفین، خصوصاً بچوں اور خاندانوں، کا ڈیٹا ان کی رضامندی کے بغیر جمع کرنے اور انہیں پلیٹ فارم پر مسلسل مصروف رکھنے کے لیے ’لت لگانے والی‘ تکنیک استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کا سخت مؤقف

کین پیکسٹن نے کمپنی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ فلکس شہریوں کی نجی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے اور صارفین کے رویّوں سے متعلق معلومات کے “اربوں ٹکڑوں” کو ریکارڈ کر کے منافع کماتا ہے۔

اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پلیٹ فارم پر ہونے والی ہر سرگرمی ایک “ڈیٹا پوائنٹ” بن جاتی ہے، جس کے ذریعے صارفین کی پسند، عادات، دلچسپیوں اور رویّوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

شکایت میں یہ جملہ خاص طور پر نمایاں کیا گیا کہ:
“جب آپ نیٹ فلکس دیکھتے ہیں تو نیٹ فلکس بھی آپ کو دیکھتا ہے۔”

صارفین کی ہر حرکت ریکارڈ کرنے کا الزام

عدالتی درخواست کے مطابق نیٹ فلکس صرف یہ نہیں دیکھتا تھا کہ صارف کیا دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ بھی ریکارڈ کیا جاتا تھا کہ وہ کن چیزوں پر کلک کرتے ہیں، کتنی دیر تک کسی مواد پر رکتے ہیں اور کون سا مواد انہیں زیادہ دیر تک اسکرین کے سامنے رکھتا ہے۔

مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی نے خود کو دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں سے مختلف ظاہر کیا اور صارفین کو یہ تاثر دیا کہ وہ ان کا ڈیٹا اشتہارات یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرتی۔

مزیدپڑھیں:فرانسیسی صدر میکرون کوخاتون اول نے تھپڑ کیوں مارا،وجہ سامنے آگئی

شکایت میں کمپنی کے سابق سربراہ ریڈ ہیسٹنگز کے ایک پرانے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کمپنی صارفین کا ڈیٹا اشتہارات فروخت کرنے کے لیے نہ جمع کرتی ہے اور نہ اس سے منافع کماتی ہے۔

بچوں کے ڈیٹا کے غلط استعمال کا دعویٰ

عدالتی فائلنگ کے مطابق سنہ 2022 میں کمپنی نے بچوں اور خاندانوں کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھایا اور مبینہ طور پر یہ معلومات کمرشل ڈیٹا بروکرز کے ساتھ شیئر کی گئیں تاکہ اربوں ڈالر کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمپنی نے آٹو پلے، لامتناہی تجاویز اور مسلسل چلنے والے مواد جیسے “لت پیدا کرنے والے” ڈیزائن استعمال کیے تاکہ صارفین زیادہ سے زیادہ وقت پلیٹ فارم پر گزاریں۔

نیٹ فلکس نے الزامات مسترد کر دیے

خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے بیان میں نیٹ فلکس نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ غلط اور مسخ شدہ معلومات پر مبنی ہے۔

کمپنی کے ترجمان کے مطابق نیٹ فلکس صارفین کی پرائیویسی کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور جہاں بھی کمپنی کام کرتی ہے وہاں رازداری اور ڈیٹا تحفظ کے قوانین کی مکمل پاسداری کرتی ہے۔

عدالت سے کیا مطالبات کیے گئے؟

کین پیکسٹن نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ نیٹ فلکس کو حکم دیا جائے کہ وہ ٹیکساس کے رہائشیوں سے “فریب سے حاصل کیا گیا” ڈیٹا حذف کرے، اشتہارات کے لیے صارفین کا ڈیٹا استعمال کرنا بند کرے اور بچوں کی پروفائلز پر آٹو پلے فیچر غیر فعال کرے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ مستقبل میں دیگر ٹیک اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے بھی اہم مثال بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ کمپنیوں کے ڈیٹا استعمال اور صارفین کی ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق بحث تیزی سے بڑھ رہی ہے۔