چینی کمنپی کا پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کے قیام کا فیصلہ خوش آئند ہے، وزیرِ اعظم

Calender Icon جمعہ 15 مئی 2026

ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر(digital economy headquarter) کا قیام پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو چینی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرکے بے شمار مواقع مہیا کرے گا

چین کے اعلیٰ کاروباری وفد نے پرائم منسٹر ہاؤس میں وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں شہبازشریف نے کمپنی کی جانب سے پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کو فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ ٹیکنالوجی کے بانی، صدر اور کنٹرولنگ شیئر ہولڈر چیان شیاو جون کی قیادت میں 11 رکنی اعلیٰ سطحی چینی کاروباری وفد نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت میں چین کی شاندار ترقی کو سراہا اور کہا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں اپنے دورۂ چین کے منتظر ہیں۔

وزیرِ اعظم نے آئی بی آئی گروپ کے پاکستان میں اپنے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کے فیصلے کو سراہا اور پاکستان و چین کے درمیان کاروباری سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ آئی بی آئی ڈیجیٹل، معیشت میں تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی اشتراک کو فروغ دے گا۔

پاکستانی معیشت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جناب چیان شیاو جون نے کہا کہ آئی بی آئی پاکستان کی معیشت میں ڈیجیٹل اصلاحات میں معاونت کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی بی آئی کے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کا قیام اس ضمن میں انتہائی مثبت ثابت ہوگا اور پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو چینی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرکے بے شمار مواقع مہیا کرے گا۔

یہ وفد وزیرِ اعظم کے ستمبر 2025 میں دورۂ بیجنگ کے دوران منعقدہ پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے تسلسل میں پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز سمیت دیگر تجارتی راستے کھلے و محفوظ ہونے چاہئیں؛ امریکہ چین اتفاق

میں وفاقی وزیرِ سرمایہ کاری جناب قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیرِ تجارت جناب جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم جناب علی پرویز ملک، معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار جناب ہارون اختر، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔