بجلی صارفین پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ بڑھنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے توانائی کے شعبے کو ٹیکس وصولی کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس پالیسی کے باعث بجلی کے بلوں میں مختلف مدات کے تحت اضافی چارجز شامل کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بجلی کے بلوں میں اس وقت چھ مختلف اقسام کے ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں جن میں 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس سمیت دیگر چارجز شامل ہیں۔ ان تمام مدات کے مجموعے سے صارفین پر فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
یہ اضافی ٹیکس نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی شعبے کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں اضافہ اور مہنگائی کے دباؤ میں مزید شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:انسائیکلوپیڈیا آف چائنا نے مصنوعی ذہانت کے دور میں قدم رکھ دیا
معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں بار بار ٹیکسوں کا اضافہ عام صارف کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہا ہے، جبکہ صنعتی سرگرمیوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔












پیر 18 مئی 2026 