بھارت میں پیٹرول(Petrol) اور ڈیزل(Diesel) کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑنے لگا ہے۔ نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نئی دہلی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 90 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے اضافے کے بعد دہلی میں پیٹرول کی قیمت 98.64 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 91.58 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
ایک ہفتے میں دوسری بار اضافہ
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ جمعہ کو بھی بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عوامی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اپوزیشن کی مودی حکومت پر تنقید
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
آئل کمپنیوں کے نقصانات کا دعویٰ
بھارتی وزارتِ تیل کے مطابق سرکاری آئل کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر روزانہ اربوں روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
عالمی منڈی اور ٹیکس پالیسی کا اثر
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ کئی ممالک نے عوامی ریلیف کے لیے پیٹرولیم پر ٹیکس کم یا ختم کر دیے ہیں، تاہم بھارت میں قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ برقرار ہے۔












منگل 19 مئی 2026 